’ملک دشمن عناصر ریال کی قدر میں کمی کے ذمہ دار‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 2 اکتوبر 2012 ,‭ 18:58 GMT 23:58 PST

ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے ملک دشمن عناصر کو ایرانی ریال کی قدر میں تیزی سے کمی کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

ایرانی کرنسی ریال کی قدر میں گزشتہ ایک سال میں اسّی فیصد کمی ہوئی ہے۔

ایران کے وزیرِ صنعت مہدی غضنفری کا کہنا ہے کہ اس کمی کے ذمہ دار سٹے باز اور قیاس آرائیاں کرنے والے ہیں جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایران پر لگائی جانے والی اقتصادی پابندیوں کا نتیجہ ہے۔

ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ مغربی پابندیاں اقتصادی جنگ کی شکل ہیں لیکن ان کی وجہ سے ملک کا جوہری پروگرام متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔

تہران میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہم جوہری معاملے پر پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ ایران پر دباؤ ڈال سکتا ہے تو وہ یقیناً غلطی پر ہے اور اسے اپنا رویہ درست کرنا ہوگا‘۔

ایران کی حکومت نے ایرانی ریال کی ڈالر کے مقابلے میں قدر میں تشویشناک حد تک کمی کی وجہ سے ملک سے زرمبادلہ باہر لیے جانے کی حد بھی مقرر کر دی ہے۔

حکومت کے اعلان کے مطابق اب کوئی بھی شخص پانچ ہزار ڈالر سے زیادہ کی رقم ایران سے باہر نہیں لے جا سکتا۔

بین الاقوامی خبررساں اداروں کے مطابق منگل کو ریال کی قدر میں مزید نو فیصد کمی واقع ہوئی جبکہ گزشتہ پیر کو اس کی قدر میں اٹھارہ فیصد کمی ہوئی تھی۔

"ہم جوہری معاملے پر پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ ایران پر دباؤ ڈال سکتا ہے تو وہ یقیناً غلطی پر ہے اور اسے اپنا رویہ درست کرنا ہوگا۔"

محمود احمدی نژاد

ایرانی کی حکومت کی طرف سے ملک میں درآمدکنندگان کو درآمدات کے لیے مطلوبہ مقدار میں ڈالر کی فراہمی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی وجہ سے بھی ریال کی قدر میں کمی ہوئی ہے۔

ایران کی خبررساں ایجنسی نے ملک کے صنعت، معدنیات اور تجارت کے وزیر علی غضنفری کے حوالے سے کہا ہے کہ انھیں قومی امید ہے ملک کی سکیورٹی ایجنسیاں ان شاخوں اور ان ذرائع کا پتا لگانے میں جلد کامیاب ہو جائیں گی جو اس صورتحال کا باعث بن رہی ہیں۔

کرنسی مارکیٹ میں بروکرز بھی ریال کی قدر میں کمی کا باعث بن رہے ہیں کیونکہ انھیں اس صورت میں زیادہ منافع کمانے کا موقع ملتا ہے۔

منگل کو سینتیس ہزار پانچ سو ریال کا ایک ڈالر فروخت ہو رہا تھا جو کہ سوموار کو ایک ڈالر کی قیمت چونتیس ہزار ریال تھی۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں ریال کی خریدوفروخت نہیں ہوتی اس لیے اس کی اصل قدر معلوم کرنا ممکن نہیں ہے۔

بی بی سی فارسی سروس کے اقتصادتی امور کے نامہ نگار عامر پیوار کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال اقتصادی پابندیوں میں سختی کی بنا پر ایران کی تیل کی فروخت میں پینتالیس فیصد کمی واقع ہوئی جس کی وجہ سے ڈالر کی فراہمی میں بھی شدید کمی ہو گئی۔

ان کامزید کہنا تھا کہ ایرانی حکومت نے تیل سے ہونی والی آمدنی کی وجہ سے ملک کی کرنسی کی قدر کو مصنوعی طور پر زیادہ رکھا تھا جو اب ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی تیل کی برآمددات میں کمی کی وجہ سے اب حکومت اور ملک کے مرکزی بینک کو سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ کیا راستہ اختیار کریں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔