شام: حلب میں بم دھماکے، اکتیس ہلاکتیں

آخری وقت اشاعت:  بدھ 3 اکتوبر 2012 ,‭ 09:19 GMT 14:19 PST

حلب میں گزشتہ کئی ہفتوں سے سکیورٹی فورسز اور باغیوں میں جھڑپیں جاری ہیں

شام میں حکام کے مطابق ملک کے دوسرے بڑے شہر حلب میں پانچ بم دھماکوں میں کم از کم اکتیس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق چار بم دھماکے شہر کے وسطی علاقے میں فوجی افسران کے کلب اور ایک ہوٹل کے قریب ہوئے ہیں۔ جبکہ پانچواں دھماکہ چند سو میٹر کے فاصلے پر چیمبر آف کامرس کے قریب ہوا۔

شام میں حکومت کے حامی ایک ٹی وی چینل الخبریہ پر نشر ہونے والے مناظر میں بم دھماکے کے نتیجے میں تباہ ہونے والی عمارتوں سے لاشوں کو نکالا جا رہا ہے۔

دھماکوں کے نتیجے میں سڑک پر ایک گہرا گڑھا پڑ گیا ہے۔

واضح رہے کہ حلب میں سرکاری سکیورٹی فورسز گزشتہ کئی ہفتوں سے باغیوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے۔

باغی جنگجووں نے گزشتہ ہفتے شہر کے مزید اضلاع پر قبضہ حاصل کرنے کے لیے نئی کارروائیاں شروع کی تھی۔

دو روز پہلے پیر کو شام میں سب سے زیادہ پرتشدد جھڑپیں ملک کے دوسرے بڑے شہر حلب اور اس کے گردو نواح میں ہوئیں۔

پیر کو برطانیہ سے کام کرنے والے ایک شامی گروپ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق پیر کو وسطی شام میں حمص سے پلمیرا جانے والے فوجیوں پر باغیوں کے حملے میں اٹھارہ فوجی اور ملک کے شمال مغربی قصبے ثلقن میں شامی فضائیہ کے حملے میں تیس شہری مارے گئے ہیں۔

اس سے پہلے شام نے امریکہ سمیت پانچ ممالک کی جانب سے شامی حکومت کے مخالف باغیوں کی حمایت کو دہشتگردی کی حمایت کے مترادف قرار دیا تھا۔

شامی وزیرِ خارجہ ولید المعلم نے یہ بات پیر کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران کہی۔

انہوں نے اپنی تقریر میں امریکہ، فرانس، ترکی، سعودی عرب اور قطر کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

ولید المعلم کا کہنا تھا کہ شام کے صدر بشار الاسد سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ شام کے اندرونی معاملات میں ’صریح مداخلت‘ ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔