’شام سے جنگ چھیڑنے کا کوئی ارادہ نہیں‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 5 اکتوبر 2012 ,‭ 00:38 GMT 05:38 PST

کسی کو بھی ہمیں آزمانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے: ترک وزیراعظم اردگان

سلامتی کونسل نے سخت الفاظ میں ترکی کے سرحدی قصبے پر شامی حملے کی مذمت کی ہے جبکہ ترکی کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام سے جنگ چھیڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا جبکہ ۔

سلامتی کونسل کے موجودہ صدر اور گوئٹے مالا کے مستقل مندوب گرٹ روزنتھل کی جانب سے پیش کیے گئے بیان میں شام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ عالمی قانون کی ایسی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند کرے اور اپنے ہمسایوں کی سالمیت اور سرحدوں کا احترام کرے۔

کلِک شام کے تنازع پر خصوصی ضمیمہ

بیان میں کہا گیا ہے کہ سلامتی کونسل کے ارکان متفق ہیں کہ اس واقعے سے ظاہر ہوا ہے کہ شام میں جاری بحران کے اس کے ہمسایہ ممالک کی سکیورٹی اور علاقائی امن و سلامتی پر پڑنے والے اثرات کتنے سنگین ہیں۔

سلامتی کونسل نے شام سے تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرنے کو بھی کہا ہے۔ متفقہ طور منظور کیے جانے والے اس بیان کے بارے میں سلامتی کونسل میں ابتداء میں اختلافِ رائے پایا جاتا تھا۔

امریکہ، اس کے معربی اتحادی اور ترکی سخت الفاظ میں شامی کارروائی کی مذمت چاہتے تھے جبکہ روس جو شام کا سب سے بڑا حلیف ہے، متن سے عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کی بات نکالنے اور صرف شام کی مذمت کی بجائے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کے الفاظ شامل کروانے پر اڑا ہوا تھا۔

اس سلسلے میں بدھ کو رات گئے بات چیت کا آغاز ہوا اور یہ فیصلہ بیان پر اتفاقِ رائے سے قبل جمعرات کو دن بھر جاری رہا۔

اس سے قبل ترک علاقے میں شامی مارٹر گولہ گرنے سے پانچ ہلاکتوں کے بعد ترک پارلیمان کی جانب سے فوج کو شام میں داخل ہو کر کارروائی کرنے کی اجازت دیے جانے پرترک وزیراعظم رجب طیب اردگان نے کہا تھا کہ ترکی شام کے خلاف اعلان جنگ نہیں کرے گا۔

رجب طیب اردگان نے کہا کہ پارلیمان کی جانب سے دی گئی اجازت صرف خبردار کرنے کے لیے ہے تاہم انہوں نے تنبیہ کی کہ ان کے ملک کے عزم کا امتحان نہ لیا جائے۔

ترکی میں ہزاروں افراد نے شام کے ساتھ کسی بھی قسم کی جنگ کے خلاف مظاہرہ بھی کیا ہے۔

ترکی کی پارلیمنٹ نے ایک خصوصی بند کمرہ اجلاس میں ایک سو انتیس کے مقابلے میں تین سو بیس ووٹوں کی اکثریت سے ترک فوج کو ایک برس کے لیے شامی علاقے میں کارروائیاں کرنے اور شامی اہداف کو نشانہ بنانے کی منظوری دی۔

ترکی نے شامی گولہ باری کے بعد جوابی گولہ باری بھی کی تھی اور اقوامِ متحدہ میں شامی مندوب کے مطابق اس گولہ باری سے شامی فوج کے دو اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

جمعرات کی شام اکساکیل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترک وزیراعظم نے کہا کہ ’ہم امن اور تحفظ چاہتے ہیں اور کچھ نہیں۔ہم جنگ کے آغاز جیسی کسی چیز میں دلچسپی نہیں رکھ سکتے‘۔

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ترک جمہوریہ اپنے شہریوں اور سرحدوں کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس سلسلے میں کسی کو بھی ہمیں آزمانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے‘۔

رجب طیب اردگان نے ان اطلاعات پر بھی سوال اٹھایا کہ شامی گولہ باری ایک ’حادثہ‘ تھی۔ انہوں نے کہا شام میں تحریک کے آغاز کے بعد سے ترک علاقے میں شامی گولے گرنے کے واقعات سات مرتبہ پیش آ چکے ہیں۔ ’حتی کہ آج بھی ایک گولہ التنوزو ضلع میں گرا ہے۔ ایک بار یہ حادثہ ہو سکتا ہے لیکن جب یہ آٹھ مرتبہ ہو تو اسے کیسے حادثہ کہا جا سکتا ہے‘۔

شام میں حکومت مخالف تحریک کے آغاز کے بعد سے یہ ترکی میں شامی جانب سے فائرنگ یا گولہ باری سے ہلاکتوں کا دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل اپریل میں شامی جانب سے کی گئی فائرنگ سے دو شامی باشندے ترک سرزمین پر مارے گئے تھے۔

جمعرات کو ہی ترک دارالحکومت استنبول کے تقسیم سکوائر میں ہزاروں افراد نے ایک جنگ مخالف مظاہرے میں شرکت کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق مظاہرین ’جنگ منظور نہیں۔ امن چاہیے‘ اور ’ہم سرمایہ کارانہ نظام کے فوجی نہیں بنیں گے‘۔

استنبول کے علاوہ ازمین، مرسن، اسکیسہر اور دیگر قصبوں اور چھوٹے شہروں سے بھی مظاہروں کی اطلاعات ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔