لیبیا کے وزیرِ اعظم برخواست کر دیے گئے

آخری وقت اشاعت:  پير 8 اکتوبر 2012 ,‭ 22:31 GMT 03:31 PST
مصطفیٰ ابو شاقور

مصطفیٰ ابو شاقور عبوری حکومت میں بھی نائب وزیرِ اعظم کے عہدے پر فائز تھے

لیبیا کے نو منتخب وزیرِ اعظم کو ان کے عہدے سے برخواست کر دیا گیا ہے۔ وہ دوسری مرتبہ بھی نئی کابینہ بنانے کے لیے پارلیمان کی منظوری حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

مصطفى ابو شاقور نے تازہ تجویز میں ’ہنگامی حکومت‘ قائم کرنے کے لیے کہا تھا جو دس وزراء پر مشتمل ہو۔

جنرل نیشنل کانگریس (جی این سی) نے اس تجویز کے خلاف چوالیس کے مقابلے میں ایک سو پچیس ووٹ ڈالے۔

مصطفى ابو شاقور لیبیا کے سابق سربراہ کرنل معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد لیبیا کے پہلے وزیرِ اعظم منتخب ہوئے تھے۔

وہ عبدالرحمان الکیب کی عبوری حکومت میں نائب وزیرِ اعظم کے عہدے پر رہ چکے ہیں۔

اب جی این سی کے پاس نیا وزیرِ اعظم منتخب کرنے کے لیے چار ہفتوں تک کا وقت ہے۔

مصطفى ابو شاقور نے گزشتہ ہفتے کے انتیس وزراء کے مقابلے میں اس مرتبہ دس وزراء کی تجویز دی تھی۔

جمعرات کو ان کی پہلی کابینہ کی تجویز مسترد کر دی گئی تھی۔ اس کی یہ وجہ بتائی گئی تھی کہ وہ لیبیا کے تمام علاقوں کی نمائندگی نہیں کرتی اور اس کے اراکین کے پاس مطلوبہ لیاقت بھی نہیں ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔