فلپائن: مسلمان باغیوں کے ساتھ معاہدہ

آخری وقت اشاعت:  اتوار 7 اکتوبر 2012 ,‭ 10:54 GMT 15:54 PST
فلپائن صدر اکوانو

فلپائن کے صدر اکوانو نے اس امن معاہدے کا اعلان کیا ہے۔

فلپائن حکومت نے ملک کے سب سے بڑے باغی مسلمان گروپ کے ساتھ امن معاہدے کا فریم ورک طے کر لیا ہے۔

اِس بات کا اعلان فلپائن کے صدر بینگنو اکوانو نے کیا ہے۔

اس امن معاہدہ کے لیے مورو اسلامک لبریشن فرنٹ (ایم آئی ایل ایف) کے ساتھ بات چیت کا ایک طویل دور چلا تا کہ چالیس سال سے جاری تصادم ختم کیا جا سکے جس میں ایک تخمینے کے مطابق ایک لاکھ بیس ہزار جانیں جا چکی ہیں۔

اس معاہدہ کے تحت جنوب میں ایک خود مختار علاقہ بنایا جائے گا جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ حالانکہ یہ مجموعی طور پر کیتھولک ملک ہے۔

یہ معاہدہ پڑوسی ملک ملائشیا میں فریقین کے درمیان بات چیت کے بعد طے پایا ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ فلپائن کے دارالحکومت میں پندرہ اکتوبر کو باضابطہ طور اس معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے۔

خبروں میں کہا گیا ہے کہ مورو اسلامک لبریشن فرنٹ کے ایک ترجمان نے اس معاہدے پر ’بے حد خوشی‘ کا اظہار کیا ہے۔

تعصبات سے بالاتر

"یہ معاہدہ تمام تعصبات سے اوپر اٹھ کر کیا گیا ہے اور بے یقینی اور کم نظری کو خارج کیا گیا ہے جس نے گذشتہ تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا تھا"

فلپائن صدر اکوانو

ایم آئی ایل ايف کے سیاسی امور کے نائب صدر غزالی جعفر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے کہا کہ ’ہم لوگ کافی خوش ہیں اور ہم اس کے لیے صدر کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘

صدر اکوانو نے ملک کے جنوبی علاقے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ فریم ورک معاہدہ منداناؤ میں حتمی اور پائدار امن کا راستہ ہموار کرے گا۔‘ اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی بھی فریقین میں بہت سی تفصیلات پر اتفاق ہونا ہے۔

اس فریم ورک معاہدے کی ایک کاپی میں کہا گیا ہے کہ ’جامع معاہدہ‘ اس سال کے آخیر تک ہو جائے گا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے یہ معاہدہ قیام امن کے سلسلے میں ایک اہم قدم ہے حالانکہ ایم آئی ایل ایف کے ساتھ گزشتہ پندرہ برسوں میں امن کی تمام کوششیں ناکام اور تشدد کا شکار رہی ہیں۔

یہ امید بھی ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس معاہدے پر دو ہزار سولہ میں صدر اکوانو کے عہدہ صدارت کے اختتام تک عملی جامہ پہنایا جائے گا۔

صدر اکوانو نے کہا ہے کہ اس خودمختار علاقے کا نام وہاں کے مورو باشندوں کے نام پر 'بنگسامورو' رکھا جائے گا۔

صدر نے کہا کہ ’یہ معاہدہ تمام تعصبات سے بالا تر ہو کر کیا گیا ہے اور بے یقینی اور کم نظری کو خارج کیا گیا ہے جس نے گزشتہ تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا تھا۔'

اتوار کو ہونے والے اس معاہدے سے ایک ’عبوری کمیشن‘ کا قیام عمل میں آیا ہے جو اس فریم ورک معاہدے کے ضوابط طے کرے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔