’بن غازی حملے کی خفیہ اطلاعات نہیں تھیں‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 10 اکتوبر 2012 ,‭ 04:57 GMT 09:57 PST

اوباما انتظامیہ اب اس حملے کو دہشت گرد حملہ قرار دے رہے ہیں۔

امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ اسے لیبیا میں گذشتہ ماہ امریکی قونصلیٹ پر ہونے والے حملے کی منصوبہ بندی کے حوالے سے ایسی کوئی انٹیلیجنس رپورٹ نہیں ملی تھی کہ جس کی بنیاد پر کوئی کارروائی کی جا سکتی۔

گیارہ ستمبر کو بن غازی میں ہوئے اس حملے میں امریکی سفیر سمیت تین اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ امریکی حکام کے مطابق حالیہ سفارتی تاریخ میں یہ ایسا واقعہ ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔

امریکہ میں صدارتی انتخابات سے چند ہفتے قبل پیش آنے والا یہ واقعہ سیاسی طور پر انتہائی حساس نوعیت کا حامل ہے۔

محکمۂ خارجہ کے افسران بدھ کو کانگرس کے سامنے پیش ہوکر اس حملے پر ردعمل کے حوالےسے وضاحت دیں گے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق معاملے پر مفصل بریفنگ کا مقصد تنقید سے بچنا ہے۔

کیپیٹل ہل میں ہونے والی یہ عوامی تحقیقات اس انکوائری کا حصہ ہیں جن کا مقصد بن غازی میں سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینا ہے جس کی وجہ سے یہ حملہ ہوا۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے ان واقعات سے متعلق اپنا ایک اندرونی جائزہ بھی لیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر سوزن رائس نے ابتدائی طور پر اس واقعے کو فطری قرار دیا جو پیغمبرِ اسلام کے بارے میں بنائی گئی فلم کے خلاف احتجاج کے بڑھ جانے پر ہوا۔

منگل کو دی گئی بریفنگ میں محکمۂ خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ انہوں نے یہ نتیجہ کبھی نہیں اخذ کیا کہ اس حملے کے لیے امریکی میں بنی اسلام مخالف فلم وجہ بنی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک منظّم حملہ تھا جس میں کئی گروپس کے مسلح افراد شریک تھے۔ ان لوگوں کے پاس موجود اسلحہ میں مشین گنز اور راکٹ پروپیلڈ گرینیڈ شامل تھے۔

" کسی ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کے حوالے سے کوئی انٹیلجنس اطلاع نہیں تھی جس کی بنیاد پر کوئی کارروائی کی جاسکتی۔ حالیہ سفارتی تاریخ میں اس طرح کے حملے کی مثال ملنا بہت مشکل ہے۔"

امریکی محکمۂ خارجہ

امریکی محکمۂ خارجہ کے ایک اعلی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ’ کسی ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کے حوالے سے کوئی انٹیلجنس اطلاع نہیں تھی جس کی بنیاد پر کوئی کارروائی کی جاسکتی۔‘

اہلکار نے نامہ نگاروں کو بتایا ’ حالیہ سفارتی تاریخ میں اس طرح کے حملے کی مثال ملنا بہت مشکل ہے‘۔

بدھ کو محکمۂ خارجہ کے دو اہلکار بن غازی حملے سے متعلق اپنے بیانات دیں گے۔ ان دونوں کا کہنا ہے کہ محکمۂ خارجہ نے اضافی سکیورٹی کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

صدارتی انتخابات سے قبل ریپبلیکن امیداور مٹ رومنی نے لیبیا میں امریکی قونصلیٹ پر ہوئے حملے کے حوالے سے امریکی صدر براک اوباما پر شدید تنقید کی ہے۔

انہوں نے اسے اوبامیہ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کی کمزوری کے طور پر بیان کیا۔

امریکی سفیر کرسٹوفر سٹیون لیبیا کے شہر بن غازی میں مشتعل مظاہرین کے حملے کے بعد امریکی قونصلیٹ کی عمارت میں آگ لگنے اور دھواں بھر جانے کے باعث اندر پھنس گئے تھے اور وہیں ان کی موت ہو گئی۔ اس واقعے میں تین دیگر اہلکار ہلاک اور تین زخمی بھی ہوئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔