حزب اللہ کا اسرائیل میں ڈرون بھیجنے کا اعتراف

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 12 اکتوبر 2012 ,‭ 06:11 GMT 11:11 PST

’یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ اور یہ آخری مرتبہ بھی نہیں ہوگا۔ ہم اسرائیل کے ہر علاقے تک جاسکتے ہیں‘۔ شیخ حسن نصراللہ

لبنان کی شیعہ ملیشیا تحریک حزب اللہ کے رہنما کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے اسرائیل میں مار گرائے جانے والا ڈرون ان کی تنظیم نے بھیجا تھا۔

شیخ حسن نصراللہ نے المنار ٹیلی وژن کو بتایا یہ ڈرون ایران میں بنایا گیا اور اس نے اسرائیل کے حساس مقامات پر پرواز کی۔

اسرائیلی جنگی جہازوں نے صحرائے نیگیو کے شمال میں اس جہاز کو مار گرایا تھا۔

شیخ نصراللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل پر حملے کے لیے استعمال ہونے والے ڈرون کے پرزے تو ایران میں بنائے گئے لیکن اسے جوڑا لبنان میں گیا تھا۔ مصر میں بی بی سی کے نامہ نگار جان لیئن کا کہنا ہے کہ شیخ نصراللہ کا یہ بیان ان کی تنظیم کے ساتھ ایران کی فوجی معاونت کا ایک نادر حوالہ ہے۔

شیخ نصراللہ کا کہنا تھا ’ایک جاسوس طیارہ لبنان کی حدود سے بھیجا گیا جو سمندر پر سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کر کے دشمن کی سرحدیں عبور کرتا ہوا مقبوضہ فلسطین میں داخل ہوا۔‘

نامہ نگاروں کا کہنا ہےکہ شیخ نصراللہ نے اسرائیل کے حساس مقامات کا ذکر بھی کیا۔

ان کا کہنا تھا’ لبنان اور خطے میں کسی بھی مزاحمتی تحریک کا ایسی فضائی صلاحیت حاصل کرنا تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔‘

دو ہزار چھ میں حزب اللہ کی جانب اسرائیل سے جنگ کے دوران کیے جانے والے ڈرون حملے کا حوالہ دیتے ہوئے نصراللہ نے کہا ’یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ اور یہ آخری مرتبہ بھی نہیں ہوگا۔ ہم اسرائیل کے ہر علاقے تک جاسکتے ہیں۔‘

ادھر اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ اسرائیل اپنی سرحدوں کا دفاع کرنے کے لیے پر عزم ہے۔

’جس طرح ہم نے گذشتہ ہفتے حزب اللہ کی جانب سے حملے کا دفاع کیا اسی طرح ہم تمام خطرات سے سختی سے نمٹیں گے۔‘

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ انہوں نے اس واقعے کے لیے حزب اللہ کو موردِ الزام ٹھہرایا ہے۔

اسرائیل نے اپنی حدود میں پچپن کلومیٹر اندر آ جانے والے غیر مسلح ڈرون کو مار گرایا تھا۔ یہ ڈرون غیر آباد علاقے پرواز کر رہا تھا۔

یہ تیسری مرتبہ ہے کے حزب اللہ کے نامعلوم طیارے اسرائیلی فضاؤں میں پرواز کرتے پائے گئے۔

ڈرون کا یہ واقعہ اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے اشاروں کے بعد پیش آیا ہے۔ ایران حزب اللہ کا قریبی اتحادی تصور کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔