شام: باغیوں کا ہوائی اڈے پر قبضہ

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 13 اکتوبر 2012 ,‭ 21:06 GMT 02:06 PST

شامی فوجیوں اور باغیوں کے درمیان الیپو میں لڑائی جون سے جاری ہے۔

شام میں باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے حلب شہر کے قریب ایک سرکاری فوجی ہوائی اڈے پر قبضہ کر لیا ہے ۔

التنیہ نامی ہوائی اڈہ حلب کے مشرق میں واقع ہے جہاں پر سکیورٹی فورسز اور باغیوں کے درمیان مہینوں سے لڑائی جاری رہی۔

دوسری طرف سرکاری میڈیا کے مطابق شامی فوجیوں نے باغیوں کے چودہ اسلحہ بردار ٹرکوں کو تباہ کیا ہے۔

دریں اثناء ترکی کی طرف سے شام کے لیے جانے والے ہوائی جہاز کو روکنے کے معاملے پر روس نے کہا ہے کہ جہاز پر ریڈار کے پرزے قانون کے مطابق بیجے جا رہے تھے۔

شام کے وزیرِ خارجہ نے ترکی کے وزیر اعظم طیب اردگان کے اس دعوے کو چیلنج کیا ہے اور کہا ہے اگر انھوں نے شام کے مسافر طیارے سے ’غیر قانونی سازو سامان‘ ضبط کیا ہے تو وہ عوام کے سامنے پیش کریں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل روس نے اس الزام سے انکار کیا تھا کہ شامی طیارے پر غیر قانونی سازوسامان لدا ہوا تھا۔

روس کا موقف تھا کہ ترکی کی جانب سے شامی طیارے کو انقرا میں جبراً اتارنے سے طیارے پر سوار مسافروں کی زندگی کو ’خطرے‘ میں ڈالا گیا۔ اس طیارے پر سوار مسافروں میں سے سترہ کا تعلق روس سے تھا۔

روس نے ترک حکام سے اس اقدام کی وضاحت کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

جہاز اتارنے کی وجہ ترک حکومت نے یہ بتائی کہ اسے شبہ تھا کہ جہاز میں ہتھیار لے جائے جا رہے تھے جو کہ شام کو ہتھیاروں کی فراہمی پر عائد پابندی کی خلاف ورزی ہوسکتی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ جہاز میں لدا کچھ سامان ضبط کر لیا گیا ہے۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سنا کے مطابق شام کے وزیر خارجہ نے ترکی کے وزیر اعظم پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ شام کے خلاف اپنی حکومت کے جارحانہ رویہ کی وضاحت کریں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’طیارے کے کارگو میں جو ساز و سامان لدا تھا اس کے بل اور دیگر دستاویزات موجود ہیں اور اس میں کسی طرح کا بھی غیر قانونی سازوسان نہیں لدا تھا۔‘

اس سے قبل روس کے ہتھیار برآمد کرنے والے ادارے نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جہاز پر کسی طرح کے ہتھیار یا حربی آلات نہیں تھے۔روس کے خبر رساں ادارے انٹرفیکس کے مطابق شام کو اگر ہتھیار بھیجنا ہی ہوتے تو قانونی راستے سے بھیجے جاتے اس کے لیے مسافر طیارے کا غیر قانونی راستہ اختیار نہیں کیا جاتا۔

جبکہ ترکی کے وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ترک جنگی طیاروں نے شام کے جس مسافر طیارے کو دارالحکومت انقرہ میں اترنے پر مجبور کیا تھا اس پر ’غیرقانونی سازوسامان‘ لدا ہوا تھا۔

احمد داؤد اغلو نے کہا اس ’قابلِ اعتراض‘ سامان کو ضبط کرنے کے بعد ہی طیارے کو دوبارہ پرواز کی اجازت دی گئی۔

یہ ایئر بس اے 320 جہاز ماسکو سے دمشق جا رہا تھا اور اس میں پینتیس مسافر اور عملے کے دو ارکان سوار تھے۔

ترکی کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک اپنی فضائی حدود کو شام کو ہتھیاروں کی منتقلی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔

ترک وزیرِ خارجہ احمد داؤد اغلو نے خبررساں ادارے اناطولیہ سے بات کرتے ہوئے یہ واضح نہیں کیا کہ طیارے کی تلاش کے دوران ضبط کیا جانے والا سامان کیا تھا۔

تاہم مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق طیارے کی تلاشی پر اس سے فوجی رابطوں کے لیے استعمال ہونے والے مواصلاتی آلات برآمد ہوئے جنہیں ترک حکام نے ضبط کر لیا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم ایک ایسی حکومت کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کے لیے پرعزم ہیں جو شہریوں کے خلاف ظالمانہ کارروائیاں کرتی ہے۔ ہمیں قبول نہیں کہ یہ فراہمی ہماری فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے کی جائے‘۔

اس طیارے پر مشکوک سامان کی موجودگی کی اطلاع پر ترک فضائیہ کے دو جنگی طیاروں نے حفاظتی تلاشی کے لیے اسے دارالحکومت کے اسنبوگا ہوائی اڈے پر اترنے پر مجبور کیا۔

ترکی اور شام کے باہمی تعلقات گزشتہ ہفتے شامی مارٹر گولہ گرنے سے پانچ ترک شہریوں کی ہلاکت کے بعد زیادہ کشیدہ ہوئے ہیں۔ اس حملے کے بعد ترک فوج نے بھی شامی علاقے پر گولہ باری کی تھی۔

بدھ کو ترک فوج کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے تنبیہ کی تھی کہ اگر شام نے سرحد پار گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھا تو ترکی زیادہ طاقت سے جواب دینے پر مجبور ہوگا۔

ترک حکام نے شام کی فضائی حدود کو بھی ترک طیاروں کے لیے غیرمحفوظ قرار دیتے ہوئے وہاں پرواز پر پابندی عائد کر دی ہے۔

جنوبی ترکی میں موجود بی بی سی کے جیمز رینلڈز کا کہنا ہے کہ ترکی اپنے عوام اور شام کو واضح طور پر دکھانا چاہتا ہے کہ وہ شام سے لاحق خطرے کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق اگر ہتھیار شام جا ر ہے ہیں تو ترک حکومت کو خدشہ ہو سکتا ہے کہ کہیں یہ ان کے خلاف ہی استعمال نہ ہوں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔