شام اور ترکی کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کی کوشش

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 13 اکتوبر 2012 ,‭ 04:19 GMT 09:19 PST

اخضر براہیمی ترک وزیر خارجہ احمد داؤد سے سنیچر کو استنبول میں ملاقات کریں گے

شام کے لیےاقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی اخضر براہیمی سنیچر کو ترکی میں دمشق اور انقرہ کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بات چیت کریں گے۔

اخضر براہیمی ترکی کے وزیر خارجہ احمد داؤد سے ملاقات میں خطے کی کشیدہ صورت حال سے متعلق ان کا موقف جاننے کی کوشش کریں گے۔

ان کا یہ دورہ گزشتہ ہفتے شام کی جانب سے ترکی کے گاؤں میں گرنے والے مارٹر گولوں میں پانچ ترک شہریوں کی ہلاکت کے بعد ہو رہا ہے۔

اخضر براہیمی ترک وزیر خارجہ احمد داؤد سے سنیچر کو استنبول میں ملاقات کریں گے۔

ترکی میں بی بی سی کے نامہ نگار جیمز رینولڈز کا کہنا ہے اگرچہ ترکی اور شام کے درمیان باقاعدہ لڑائی نہیں ہو رہی تاہم ترکی تیزی سے اسں جنگ میں شامل ہو رہا ہے۔

شامی حکومت ترکی، سعودی عرب اور قطر پر شام میں باغیوں کو اسلحہ فراہم کرنے کا الزام عائد کرتا رہا ہے جس کی یہ ممالک تردید کرتے ہیں۔

اخضر براہیمی جدہ میں سعودی حکام سے ملاقات کے بعد ترکی کے دورے پر ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق اخضر براہیمی کے پاس خطے میں قیام امن کے لیے کوئی واضح منصوبہ نہیں ہے۔

اس سے پہلے ترکی کے جنگی طیاروں نے شامی ایئر لائن کے مسافر طیارے کو ماسکو سے دمشق جاتے ہوئے انقرہ میں اترنے پر مجبور کیا تھا۔

ترکی نے شامی مسافر جہاز کو اس خدشے کی بنا پر اتارا کہ اس میں فوجی نوعیت کا ساز و سامان تھا۔

شام نے ترکی کے اس دعوے کو رد کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس حوالے سے ثبوت پیش کرے۔

جمعے کو شامی باغیوں نے حلب کے قریب فوجی ہوائی اڈے پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس کی آذاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔