مصر: صدارتی فیصلہ واپس، پراسیکیوٹر جنرل بحال

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 13 اکتوبر 2012 ,‭ 16:53 GMT 21:53 PST

صدر کی جانب سے برطرفی کے باوجود عبد المجید محمود نے عہدہ چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا

مصر کے صدر محمد مرسی نے ملک کے پراسیکیوٹر جنرل کو ان کے عہدے سے برطرف کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔

صدر مرسی اور پراسیکیوٹر جنرل عبد المجید محمود کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ دارالحکومت قاہرہ میں اس معاملے پر جاری مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں۔ یہ فیصلہ نائب صدر سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے صدر کی جانب سے برطرفی کے باوجود عبد المجید محمود نے عہدہ چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا اور وہ ججوں اور وکلاء کے ہمراہ دفتر گئے تھے۔

حسنی مبارک کے اقتدار میں حکومت مخالف احتجاج کے دوران مظاہرین پر حملے کرنے والے حکام کو بری کرنے کے بعد سے ان پر شدید تنقید کی جا رہی تھی۔

جمعے کو ان کے حامیوں اور صدر مرسی کے حامیوں کے بیچ تہریر سکوائر میں لڑائی ہوئی جس میں کئی لوگ زخمی ہوگئے۔ گذشتہ جون میں صدر مرسی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے یہ بدترین کشیدگی تھی۔

قاہرہ سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس مفاہمت کو صدر مرسی کے لیے شکست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے صدر محمد مرسی نے پراسیکیوٹر جنرل کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔ انھوں نے یہ اقدام اس وقت اٹھایا تھا جب ایک روز قبل ہی سابق صدر حسنی مبارک کے چوبیس حامیوں کو گذشتہ برس کے انقلاب میں مظاہرین پر حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام سے بری کر دیا گیا تھا۔

مقدمے سے بری ہونے والے افراد کے گروہ پر الزام تھا کہ انہوں نے اونٹوں اور گھوڑوں پر سوار افراد کو سنہ دو ہزار گیارہ میں قاہرہ میں ہونے والا مظاہرہ ختم کروانے کے لیے بھیجا۔

اس واقعے کو بعد میں اونٹوں کی جنگ کے نام سے پکارا جانے لگا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔