’قطب شمالی جاسوسی کا نیا مرکز‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 14 اکتوبر 2012 ,‭ 10:56 GMT 15:56 PST
قطب شمالی

قطب شمالی کے علاقے گرین لینڈ پر فی الحال ڈنمارک کا قبضہ ہے۔

ڈنمارک کے خفیہ ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ قطب شمالی کے علاقے میں دنیا کی اہم خفیہ ایجنسیوں کی دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے۔

ڈنمارک کے دارالحکومت كوپن ہیگن سے بی بی سی کے نامہ نگار میلکم برابینٹ کا کہنا ہے کہ کئی ملکوں کی خفیہ ایجنسیاں برف کے نیچے موجود معدنی املاک کے متعلق زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ وہ وہاں کی زمین کے زیادہ سے زیادہ حصے پر اپنے حق کا دعوی کر سکیں۔

نامہ نگار کے مطابق قطب شمالی کئی ممالک کے درمیان طاقت کے مظاہرے کا نیا مرکز بنتا جا رہا ہے۔

اکیسویں صدی میں یہ صورت حال کچھ اسی طرح سے نظر آرہی ہے جس طرح سو سال قبل کبھی وسط ایشیا کے علاقے کے سلسلے میں برطانیہ اور روس کے درمیان رسہ کشی جاری تھی۔

دنیا کے پانچ ممالک امریکہ، کینیڈا، روس، ناروے اور ڈنمارک اس علاقے پر اپنا اپنا دعویٰ پیش کرتے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اس علاقے میں موجود جزائرگرین لینڈ پر فی الحال ڈنمارک کا قبضہ ہے۔

قطب شمالی

قطب شمالی میں بر‌ف کے نیچے معدنی زخائر پر لوگوں کی نظر ہے۔

ایک اخبار ’برلنسك‘ کو دیے گئے انٹرویو میں ڈنمارک کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ جیکب شاف نے کہا ہے کہ قطب شمالی میں غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈنمارک اور گرین لینڈ کو سائبر سپیس میں جاری جاسوسی کے حوالے سے خاص طور پر ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ قطب شمالی میں اب چین اور جنوبی کوریا کی دلچسپی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

گرین لینڈ میں چین اپنی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔

واضح رہے کہ گرین لینڈ میں كولٹان معدنی فولاد وافر مقدار میں موجود ہے جس کا استعمال موبائل فون اور لیپ ٹاپ میں کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔