لابیئنگ کی تحقیقات ہوں گی

آخری وقت اشاعت:  اتوار 14 اکتوبر 2012 ,‭ 09:46 GMT 14:46 PST
سابق فوجی سربراہان

برطانیہ کےاخبار نے چار سابق فوجی عہدیداروں پر لابی کرنے کا الزام لگایا ہے۔

برطانیہ کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ وہ ان الزامات کی جانچ کریگی جس میں کہا گیا ہے کہ ریٹائرڈ فوجی افسروں نے اسلحہ کمپنیوں کی جانب سے ارکان پارلیمنٹ اور سرکاری عہدیداروں کو متاثر کرنے کی پیش کش کی ہے۔

واضح رہے کہ اس پیش کش کی سنڈے ٹائمز نے خفیہ طور پر فلم بنا لی تھی اور ان کا کہنا ہے کہ بااثر لوگوں کو متاثر کرنے کی یہ کوشش وائٹ ہال قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

اخبار سنڈے ٹائمز کے رپورٹرز نے خود کو دفاعی سازوسامان کے لابی کرنے والے کے طور پر پیش کرتے ہوئے فوج کے چار سینیئر ریٹائرڈ افسروں سے رابطہ کیا اور ان سے کانٹریکٹ حاصل کرنے میں مدد کرنے کی گذارش کی۔

اخبار کا کہنا ہے کہ اس میں شامل تمام عہدیداروں نے کسی طرح کی غلط کام کے ارتکاب کی تردید کی ہے۔

ان دعوؤں کا جواب دیتے ہوئے وزارت دفاع کے سیکرٹری فلپ ہیمنڈ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ فوجی افسروں نے وزارت دفاع کو دفاعی رقم خرچ کرنے کے معاملے میں کسی طرح سے متاثر نہیں کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'تمام فوجی سازوسامان فوج کے لیے حاصل کیے گئے ہیں اور ان سے ریٹائرڈ افسروں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ 'سابق فوجی افسر وزارت دفاع پر کانٹریکٹ دینے کے معاملے میں اثر انداز نہیں ہو سکے ہیں۔

واضح رہے کہ وزارت دفاع سے ریٹائر ہونے والے اراکین ریٹائرمنٹ کے ابتدائی دو برس میں کسی نجی کمپنی میں کام نہیں کر سکتے ہیں۔

احتیاط کی ضرورت

"وزیروں سے لابی کرنے کے بارے میں مجھے ذرا محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ میں ان سے نہ مل سکوں لیکن پھر اس کے لیے کوئی اصول تو ہونا چاہیۓ"

بحریہ کے سابق کمانڈر سر ٹریور سور

سنڈے ٹائمز نے الزام لگایا ہے کہ ڈیفنس اکیڈمی کے سابق سربراہ لفٹیننٹ جنرل جان کسزیلی اور وزارت دفاع کے سامان خریدنے کے چیف لیفٹیننٹ جنرل ریچرڈ ایپل گیٹ نے تسلیم کیا ہے کہ انھوں نے کئی ملین پاؤنڈ کے دفاعی سودے کے لیے اپنے اثرورسوخ کا استعمال کیا ہے۔

بی بی سی نے ایک ویڈیو دیکھی ہے جس میں سر جان کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ وہ وزیر اعظم، سکریٹری دفاع اور فوج کے سربراہ سے ریممبرینس ڈے پر بات کریں گے۔

وہ اس ویڈیو میں یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ 'آپ ملکہ کے انتظار میں وہاں کھڑے ہیں اور آپ کے پاس بات کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے‘۔

دوسری ویڈیو میں بحریہ کے سابق کمانڈر سر ٹریور کو یہ کہتے دیکھا جا سکتا ہے: 'وزیروں سے لابی کرنے کے بارے میں مجھے ذرا محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ میں ان سے نہ مل سکوں لیکن پھر اس کے لیے کوئی اصول تو ہونا چاہیے‘۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس معیار تک پہنچنے کی کوئی ترکیب ہے تو انھوں نے کہا: 'ہاں، آپ اسے بنیادی طور پر نظرانداز کر دیں‘۔

اخبار نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ فوج کے سابق سربراہ لارڈ ڈنناٹ نے کہا کہ وہ وزارت دفاع کے اعلی سرکاری افسر سے بات کریں گے جو ان کے سکول کے زمانے کے دوست ہیں۔

ایک بیان میں لارڈ ڈنناٹ نے کہا ہے کہ وہ متاثر کرنے کا ایسا کوئی کام نہیں کریں گے جو اصول کے خلاف ہوں۔

انھوں نے بہرحال کہا کہ انھوں نے لابی کرنے والوں کے خیالات سنے اور انہیں بغیر پیسے لیے مشورے دیے کیونکہ وہ لوگ 'ایسی ٹکنالوجی کے فروغ کی تجویز پیش کر رہے تھے جس سے لوگوں کی جان بچائی جا سکتی ہے۔'

انھوں نے کہا کہ انھوں نے فوج کے لوگوں سے بات چیت کرا نے کی بات کہی لیکن ان کی جانب سے کسی کو متاثر کرنے کی بات نہیں کی ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ دیگر تین افراد نے بھی کسی غلط کام کے ارتکاب سے انکار کیا ہے۔

وزارت دفاع نے کہا ہے کہ وہ اس بات کی جانچ کر رہے ہیں کہ کیا کسی کو فائدہ پہنچانا ممکن ہے اور کیا اس میں کسی قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔