روہنگیا مسلمانوں کی مدد، دفتر کھولنے کی اجازت نہیں

آخری وقت اشاعت:  پير 15 اکتوبر 2012 ,‭ 14:37 GMT 19:37 PST

او آئی سی کے دفتر کھولنے کے فیصلے کے خلاف ہزاروں بدھ بھکشو نے سلسلے وار احتجاج بھی کیا تھا

برما کے صدر تھین سین نے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کو روہنگیا مسلمانوں کی مدد کے لیے اپنے ملک میں دفتر کھولنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

برما کے صدر کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کا دفتر لوگوں کی خواہشات سے مطابقت نہیں رکھتا۔

او آئی سی کے دفتر کھولنے کے فیصلے کے خلاف ہزاروں بدھ بھکشو نے احتجاج بھی کیا تھا۔

برمی حکام روہنگیا مسلمانوں کو غیرقانونی تارکین وطن قرار دیتے ہیں۔

او آئی سی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہیں اب تک برمی صدر کے فیصلے سے آگاہ نہیں کیا گیا۔

مغربی برما میں بدھ مت کی ماننے والے مقامی رخائن نسل کے لوگوں اور روہنگیا مسلمانوں کے مابین حالیہ نسلی فسادات میں ہزاروں افراد بے گھر ہوئے اور درجنوں افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں جن کی تحقیقات کے لیے برمی حکومت نے ایک کمیشن بھی قائم کر دیا ہے۔

رخائن ریاست میں کشیدگی اس سال مئی میں تین مسلمانوں کے ہاتھوں ایک بدھ خاتون کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعے کے بعد شروع ہوئی۔ اس کے بعد ایک مشتعل گروہ نے جوابی کارروائی میں دس مسلمانوں کو قتل کر دیا تھا تاہم ان افراد کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

اس کے بعد فسادات پوری ریاست میں پھیلنے لگے جن میں مسلمانوں اور بدھ مت کے پیروکاروں نے ایک دوسرے کے مکانات جلائے۔ اس سورش میں کئی افراد ہلاک اور ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے۔

ان جھڑپوں میں دونوں جانب سے مخالفوں پر شدید مظالم کے الزامات لگائے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔