نائن الیون، خالد شیخ محمد عدالت میں پیش

آخری وقت اشاعت:  منگل 16 اکتوبر 2012 ,‭ 15:22 GMT 20:22 PST
خالد شیخ عدالت کا منظر

خالد شیخ محمد کے ہمراہ چار دیگر لوگوں پر سماعت جاری ہے۔

امریکہ میں نائن الیون کے حملوں کے مرکزی ملزم خالد شیخ محمد سمیت پانچ ملزمان گوانتاناموبے میں ایک فوجی عدالت کے سامنے حاضر ہوئے ہیں۔

پانچ ماہ میں پہلی بار گوانتاناموبے میں شروع ہونے والی عدالتی کارروائی ایک ہفتہ جاری رہے گی اور اس میں ساری توجہ رازداری پر مرکوز رہے گی۔

خالد شیخ پر نائن الیون حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام ہے جبکہ پاقی چار افراد پر جہاز اغوا کرنے میں مدد فراہم کرنے کا الزام ہے۔

اس سے قبل مئی کے مہینے میں ہونے والی ایک سماعت تیرہ گھنٹے کی ہنگامہ خیز رہی تھی۔

اس سماعت کے دوران ملزمان کو باضابطہ طور پر الزام عائد کیا گیا تھا جس پر ملزمان نے ناراضگی کا اظہار کیا اور جج کے سوالات کا جواب دینے سے انکار کیا تھا اور عربی میں ترجمے کی سہولت استعمال کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

خالد شیخ محمد کے علاوہ، رمزی بن الشیبہ، مصطفیٰ احمد الحساوی، علی عبدالالعزیز اور وحید بن عطش کے خلاف گوانتاناموبے کی ایک فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔

ان سب پر القاعدہ کے ساتھ مل کر دہشت گردی اور گیارہ ستمبر کے واقعات میں ہلاک ہونے والے تمام افراد کے قتل کے الزام سمیت کل دو ہزار نو سو چھہتر الزامات میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔

اگر عدالتی کارروائی میں یہ پانچوں مجرم ثابت ہو جاتے ہیں تو انہیں ممکنہ طور پر سزائے موت دی جا سکتی ہے۔

پیرکو الزامات کا دفاع کرنے والوں نے جج کی باتوں کو پرسکون انداز میں سنا اور ان کا جواب دیا لیکن خالد محمد شیخ نے کہا کہ ’میرے خیال میں اس عدالت سے انھیں انصاف کی امید نہیں ہے۔‘

انصاف کی امید نہیں

پیرکو الزامات کا دفاع کرنے والوں نے جج کی باتوں کو پرسکون انداز میں سنا اور ان کا جواب دیا لیکن خالد محمد شیخ نے کہا کہ ’میرے خیال میں اس عدالت سے انھیں انصاف کی امید نہیں ہے۔‘

وکیل دفاع نے کہا کہ ان کے مؤکل کو اس ہفتے جاری رہنے والی سماعت میں انتہائی سکیورٹی والے سیل سے زبردستی نہیں لایا جا سکتا ہے کیونکہ یہ انہیں سی آئی اے کی جیل میں قید کی یاد تازہ کرا سکتا ہے۔

سنہ دوہزار چھ میں گوانتاناموبے میں منتقل کیے جانے سے قبل انہیں سی آئی اے کی خفیہ جیلوں میں رکھا گیا تھا۔

پانچوں ملزمان نے کہا کہ تفتیش کے دوران انہیں اذیتیں دی گئیں ہیں اور تشدد کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ حملوں کی منصوبہ بندی کے مرکزی ملزم خالد شیخ کے مطابق ان پر دورانِ حراست پانی کے اندر ڈبو ڈبو کر تشدد کیا گیا جسے ’واٹر بورڈنگ‘ کہا جاتا ہے۔

وکیل دفاع اور فضائیہ کے کپتان مائکل شوارٹز نے کہا ہے کہ ’ہم ٹاچر کے بارے میں بات کریں گے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔