سکیورٹی میں ناکامی کی ذمہ دار ہوں: کلنٹن

آخری وقت اشاعت:  منگل 16 اکتوبر 2012 ,‭ 14:14 GMT 19:14 PST
فائل فوٹو، ہلری کلنٹن

امریکی وزیر خارجہ نے یہ بیان صدارتی انتخابات کے حوالے سے صدارتی امیدواروں کے درمیان دوسرے مباحثے سے دیا ہے

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ وہ لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی قونصل خانے کی سکیورٹی میں ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتی ہیں۔

گزشتہ ماہ بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر حملے میں لیبیا میں امریکی سفیر سمیت چار امریکی ہلاک ہو گئے تھے۔

امریکی وزیر خارجہ کے مطابق بیرون ممالک میں امریکی سفارتی عملے کی حفاظت کی ذمہ داری وائٹ ہاوس کی نہیں بلکہ ان کی ہے۔

امریکہ میں ریپبلکین جماعت نے ان حملوں کے بعد صدر اوباما پر شدید تنقید کی ہے۔

وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے امریکی ٹی وی چینلز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ کام انٹیلیجنس اداروں کا ہے معلوم کریں اور وزارتِ خارجہ کی توجہ اس بات پر نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ کیا ہوا اور کیا ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ وہ اپنے عملے یا لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ کے مطابق ان کی توجہ اس بات پر تھی کہ لیبیا میں امریکی سفیر کی ہلاکت میں ملوث حملہ آوروں کو تلاش کرنے کے بعد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

ذمہ داری قبول کرنے کا مقصد

واشنگٹن میں بی بی سی نامہ نگار ایڈم بروکس کا کہنا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کے بیان سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وہ امریکی صدر پر ہونے والی تقنید کا رخ موڑنا چاہتی ہیں، جنہیں صدارتی انتخابات سے قبل کیے جانے والے رائے عامہ کے جائزوں میں اپنی پوزیشن بہتر کرنے کے لیے صدارتی امیدواوں کے درمیان مباحثے میں موثر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔

’میرے خیال میں ہمیں الزام تراشیوں میں نہیں جانا چاہیے، میرے خیال میں ہمیں اس کی تہہ میں جانا چاہیے تاکہ معلوم ہو سکے کہ کیا ہوا، اور یہ معلوم کیا جا سکے کہ اپنے لوگوں کی حفاظت کے لیے کیا کر رہے ہیں، اور ایسے واقعات کو دوبارہ رونما ہونے سے روکا جا سکے اور جو کوئی اس میں ملوث ہے اس کا پتہ چلایا جا سکے اور انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔‘

واشنگٹن میں بی بی سی نامہ نگار ایڈم بروکس کا کہنا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کے بیان سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وہ امریکی صدر پر ہونے والی تقنید کا رخ موڑنا چاہتی ہیں، جنہیں صدارتی انتخابات سے قبل کیے جانے والے رائے عامہ کے جائزوں میں اپنی پوزیشن بہتر کرنے کے لیے صدارتی امیدواوں کے درمیان مباحثے میں موثر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔

ریپبلکین جماعت کے صدارتی امیدوار مٹ رومنی صدر اوباما کے ساتھ اپنے دوسری مباحثے میں دوبارہ لیبیا میں امریکی قونصل خانے پر حملے کے حوالے سے تنقید کریں گے۔

صدارتی امیدوار مٹ رومنی بن غازی کے واقعے کو صدر اوباما کی خارجہ پالیسی کے خلاف تنقید کو مرکزی حیثیت دے رہے ہیں اور نائب صدر جو بائیڈن پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ حملے کے بارے میں عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پیغمبرِ اسلام کے بارے میں توہین آمیز امریکی فلم کے خلاف بن غازی میں امریکی قونصل خانے کے باہر ہونے والے پرتشدد ہو گئے تھے اور ان میں امریکی سفیر سمیت تین امریکی ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔