غزہ کی ناکہ بندی پر رپورٹ جاری کرنے کا حکم

آخری وقت اشاعت:  بدھ 17 اکتوبر 2012 ,‭ 14:53 GMT 19:53 PST

غزہ کی ناکہ بندی کرنے سے بچے بوڑھے اور سبھی پریشان ہوئے

اسرائيل کی ایک عدالت نے وہ تحقیقی رپورٹ جاری کرنے حکم دیا ہے جس میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ غزہ میں کم غذائیت سے بچنے کے لیے ایک فلسیطینی شہری کو ہر روز کتنی کیلریز کی ضرورت ہو تی ہے۔

دو ہزار سات میں حماس کے اقتدار میں آنے کے بعد اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا اور اسی دوران اس نے یہ تحقیق کروائی تھی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے صاف پتہ چلتا ہے کہ غزہ کی ناکہ بندی کی کارروائی اجتماعی سزا کے مترادف ہے۔

اسرائیل کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ تحقیقی رپورٹ صرف ایک مسودے کی حد تک ہی رہی اور پالیسی وضع کرنے کے لیے اس کا استعمال کبھی بھی نہیں کیا گیا۔

اسرائیل میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ گیشا نے اس رپورٹ کو منظر عام لانے کے لیے طویل قانونی لڑائی لڑی ہے تاکہ وزارت دفاع وہ دستاویز جاری کرے۔

اسی گروپ نے غزہ کی ناکہ بندی کے خلاف بھی مہم چلائی تھی۔

دو ہزار آٹھ میں آنے والی اس رپورٹ کا نام ’فوڈ کنزمپشن ان دی غزہ سٹرپ، ریڈ لائن‘ ہے۔ اس رپورٹ میں یہ تفصیلات درج ہیں کہ غذائیت کی کمی سے بچنے کے لیے سے بچنے کے لیے فلسطینیوں کو کتنی کیلریز کی ضرورت ہوتی ہے اس کی تفصیلات درج ہیں۔

گیشا کے مطابق اس کے تحت بعض اشیاء جیسے دال چینی کی تو اجازت تھی لیکن دھنیا لے جانے کی اجازت نہیں تھی۔

ریڈ لائن رپورٹ کے مطابق بنیادی روز مرّہ کی اشیاء کے لیے اسرائیل کو غزہ میں ہر روز ایک سو چھ بوری بھیجنا چاہیے تھا لیکن اس نے صرف سڑسٹھ ہی کو اجازت دے رکھی تھی۔

"اسرائیل یہ دعوی کیسے کر سکتا ہے کہ وہ غزہ میں عام شہریوں کی زندگی کے لیے ذمہ دار نہیں جبکہ وہ غذائی اشیاء اور اس کی مقدار اس حد تک کنٹرول کرتا ہے کہ فلسطینی شہریوں کو کیا کھانے کی اجازت ہوگی۔"

گیشا کے مطابق ناکہ بندی سے پہلے ہر روز تقریباً چار سو ٹرک سامان جاتا تھا لیکن پابندی لگا کر اسرائیل نے علاقے کے سبھی افراد کو سزا دی۔

تین سال بعد زبردست عالمی دباؤ کے بعد اسرائیل نے ان پابندیوں میں کچھ کمی کی تھی۔

گیشا کا کہنا ہے کہ اس ریسرچ رپورٹ سے اسرائیل کے اس دعوے کی نفی ہوتی ہے کہ سکیورٹی کی وجہ سے ناکہ بندی کی ضرورت ہے۔

تنظیم کی ڈائریکٹر ساری باشی گیشا کا کہنا ہے ’اسرائیل یہ دعوی کیسے کر سکتا ہے کہ وہ غزہ میں عام شہریوں کی زندگی کے لیے ذمہ دار نہیں جبکہ وہ غذائی اشیاء کی مقدار تک کنٹرول کرتا ہے کہ فلسطینی شہریوں کو کیا کھانے کی اجازت ہوگی۔

اسرائیل کے حکام اب یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ غذائی اشیاء پر پابندی لگا کر لوگوں کی زندگی مشکل بنانا تھا تاکہ حماس پر دباؤ ڈالا جا سکے۔

دو ہزار چھ میں اسرائیلی حکومت کے مشیر ڈو ویزگلاس نے ایک بیان میں کہا تھا ’مقصد یہ تھا کہ فلسطینیوں کو ڈائٹ پر رکھا جائے لیکن بھوک سے انہیں مرنے نہ دیا جائے۔‘

اقوام متحدہ اور دیگر حقوق کی تنظیموں نے بھی غزہ کی ناکہ بندی کو اجتماعی سزا کے مترادف قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔