دوسرا صدارتی مباحثہ کون جیتا؟

آخری وقت اشاعت:  بدھ 17 اکتوبر 2012 ,‭ 05:16 GMT 10:16 PST

امریکی صدارتی امیدوار نیو یارک میں دوسرے مباحثے میں مدِمقابل تھے۔ ان دونوں میں سے کس نے اس مباحثے میں برتری حاصل کی اس کے بارے چند سیاسی تجزیہ نگاروں کے خیالات۔

رون فورنیے، نیشنل جرنل

اس کا جواب شاید اوباما ہو کیونکہ پہلے مباحثے میں کافی خراب کارکردگی دکھانے کے بعد ان کا مقصد کافی صاف تھا یعنی اچھی کارکردگی دکھانا۔ اور وہ اس میں کامیاب بھی رہے یونکہ انہوں نے جارحانہ انداز میں رومنی پر تنقید کی۔

انہوں نے رومنی کو دوغلا اور جھوٹا کہا اور ان پر الزام عائد کیا کہ وہ امراء کے لیے ٹیکس رعایت کے حامی ہیں۔

لیکن رومنی نے بھی کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ انہوں نے اوباما پر معیشت کو لے کر تنقید کی۔

مختصراً دونوں جماعتیں اس مباحثے کو لے کر جشن منا سکتی ہیں۔ اور اس مباحثے میں کچھ بھی ایسا نہیں ہوا جس کی وجہ سے کہا جا سکے کہ کسی ایک کا پلڑا بھاری ہو گیا ہے۔

مائیکل ٹوماسکی، ڈیلی بیسٹ

اوباما نے اس مباحثے میں واضح برتری حاصل کی ہے۔ شائد اتنی واضح نہیں جتنی کہ رومنی نے پہلے مباحثے میں حاصل کی تھی۔ اور سب سے اہم یہ بات ہے کہ جس طرح سے اوباما نے برتری حاصل کی ہے۔

مجھے کسی ایک شخص کا نام بتا دیں جو اس مباحثے سے قبل یہ کہہ ہو رہا ہو کہ اوباما بن غازی کے واقعے پر سوال اٹھائے جانے پر برتری لے جائیں گے۔

اس کے علاوہ اوباما نے امیگریشن، گن کنٹرول اور ٹیکس کے موضوعات پر برتری حاصل کی۔ کافی حیرت ہوئی کہ رومنی ٹیکس کے حوالے سے اس بار بھی اپنے بیس فیصد کے موقف پر ڈٹے رہے۔

ایلیگزینڈر برنز، پولیٹکو

آیا اس مباحثے میں اوباما کو اس سطح کی برتری حاصل ہوئی ہے جس کی ڈیموکریٹ جماعت کو امید تھی یہ کہنا قبل از وقت ہے۔ لیکن اس مباحثے میں جو بات واضح تھی وہ یہ تھی کہ اوباما جارحانہ تھے اور انہوں نے رومنی کے کردار اور پالیسیوں پر تنقید کی۔

گیری ینگ، گارڈیئن

اس مباحثے میں براک اوباما کے حق میں ایک بات تھی اور وہ یہ تھی کہ وہ پہلے مباحثے سے مزید بدتر کارکردگی نہیں دکھا سکتے تھے۔ اور رومنی کے لیے ایک قباحت یہ تھی کہ وہ پہلے مباحثے سے ززید بہتر کارکردگی نہیں دکھا سکتے تھے۔

اس مباحثے میں اوباما بہتر تھے۔ انہوں نے مٹ رومنی کو چیلنج کیا اور ان پر حاوی ہوگئے۔ یہ مباحثہ اتنا ہی نتیجہ خیز تھا جتنا کہ پہلا مباحثہ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار اوباما جیتے۔

اینڈریو بریٹبرت، بریٹبرٹ ڈاٹ کام

اگر وہ لوگ جنہوں نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ کس کو ووٹ کریں تو ممکنہ طور پر وہ یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے ہوں گے کہ آیا وہ اوباما کو ووٹ دیں یا گرین پارٹی کو۔

اس کے علاوہ اس نوے منٹ کے مباحثے میں اوباما کو بولنے کے لتے چار منٹ زیادہ ملے۔ اور اس مباحثے میں چار منٹ بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

اس مباحثے میں سب سے زیادہ بد دیانتی اس وقت دیکھی گئی جب سی این این کی ماڈیریٹر کینڈی کراؤلی خود اس مباحثے میں اس وقت کود پڑیں جب بن غازی کا موضوع آیا اور کھلم کھلا اوباما کی حمایت کی۔

بن غازی کے حملے پر اوباما نے اپنے اور اپنی انتظامیہ کے جھوٹ کو یہ کر چھپانے کی کوشش کی کہ انہوں نے اس حملے کے پہلے ہی دن ببیان میں کہا تھا کہ یہ دہشت گردی ہے۔

رومنی نے اوباما کے اس موقف کی صحیح طور پر مخالفت کی اور کراؤلی نے غلط طور پر اوباما کی حمایت کی۔

فوکس نیوز

اس مباحثے میں صدر اوباما نے وہ غلطیاں نہیں دہرائیں جو انہوں نے پہلے مباحثے میں کی تھیں۔ وہ زیادہ جارحانہ تھے۔ رومنی نے دوسری طرف انداز وہی اپنایا جو انہوں نے پہلے مباحثے میں اپنایا تھا۔

دونوں امیدواروں میں سے کوئی بھی دوسرے کو موقع دینے کے لتے تیار نہیں تھا اور دونوں ہی کی کوشش تھی کہ وہ ماڈیریٹر سے چند مزید سیکنڈ حاصل کرسکیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔