’شام میں جہادیوں کی موجودگی خطرناک‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 17 اکتوبر 2012 ,‭ 01:26 GMT 06:26 PST

شام میں حکومت مخالف تحریک گزشتہ برس مارچ سے جاری ہے

شام میں حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے والے اقوامِ متحدہ کے ایک کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ شامی حکومت اور باغیوں کے مابین تنازع میں غیر ملکی اسلامی شدت پسندوں کا کردار خطرناک رخ اختیار کرتا جا رہا ہے۔

کمیشن کے مرکزی تفتیش کار پاؤلو سرجیو پنہیرو کا کہنا ہے کہ ’ریڈیکل‘ نظریات کے حامی سینکڑوں اسلامی جہادیوں کی شام میں موجودگی خصوصاً خطرناک ہے۔

شام میں تنازع کے آغاز کے بعد ایسے عناصر کی موجودگی کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے کمیشن کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے پاؤلو پنہیرو کا کہنا تھا شام میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں شدید اضافہ ہوا ہے اور اس میں غیرملکی شدت پسندوں کا کردار اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ شام میں داخل ہونے والی کوئی طاقتور فوج نہیں ’لیکن وہ جمہوریت یا آزادی کے لیے نہیں بلکہ اپنے مخصوص عزائم کے لیے لڑائی میں شریک ہیں‘۔

شام کچھ عرصے سے ملک میں جاری تشدد کے لیے غیر ملکی حمایت یافتہ ’دہشتگرد گروہوں‘ کو ذمہ دار ٹھہراتا رہا ہے۔

شام کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے ایلچی لخدار براہیمی نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ شامی حکومت کے اندازوں کے مطابق ملک میں غیر ملکی جنگجوؤں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔