برطانیہ میں انسانی سمگلنگ میں اضافہ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 18 اکتوبر 2012 ,‭ 01:13 GMT 06:13 PST

یورپ میں رومانیہ سے سب سے زیادہ افراد برطانیہ سمگل کیے جاتے ہیں

برطانیہ میں تازہ حکومتی اندازوں کے مطابق ملک میں انسانی سمگلنگ کے نتیجے میں لائے جانے والے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

بین الشعبہ جات وزاتی گروپ کے مطابق گزشتہ برس حکام کو نو سو چھیالیس ایسے افراد کے بارے میں پتہ چلا تھا جبکہ دو ہزار دس میں یہ تعداد سات سو دس تھی۔

گروپ کا کہنا ہے کہ چین، ویتنام، نائجیریا اور مشرقی یورپ کے علاقوں کےگروپ انسانی سمگلنگ کے سلسلے میں برطانیہ کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔

اس وقت برطانیہ میں ہر برس سمگل کیے جانے والے افراد کی تعداد کے بارے میں کوئی حتمی سرکاری اعدادوشمار میسر نہیں تاہم گروپ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس کے دوران ان واقعات کی نشاندہی کے لیے قائم سرکاری ادارے کو ایک ہزار کے قریب افراد کا پتہ چلا جن میں سے سات سو بارہ بالغ اور دو سو چونتیس نابالغ تھے۔

2010 میں جن واقعات کو رپورٹ کیا گیا ان میں سے پانچ سو چوبیس افراد بالغ اور ایک سو چھیاسی نابالغ تھے۔

"ان میں سے اکثریت ایک بہتر زندگی کا خواب دیکھتی ہوئی برطانیہ آتی ہے۔ ایسے افراد کو سرحد پر روکنا ناممکنات میں سے ہے کیونکہ ان میں بیشتر کو اس وقت تک اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔"

کیون ہائی لینڈ، لندن پولیس

خیال کیا جاتا ہے کہ ہر برس ایسے اس تعداد میں اضافے کی وجہ انسانی سمگلنگ کا شکار افراد کی نشاندہی کا عمل بہتر ہونا ہے۔

رپورٹ میں اعضاء کی غیرقانونی خریدو فروخت کے لیے بھی انسانی سمگلنگ کا ذکر ہے جبکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ برطانیہ لائے جکانے بچوں سے بھیک منگوانے کے علاوہ انہیں جرائم کی دنیا میں دھکیل دیا جاتا ہے۔

بچوں کو استحصال سے بچانے کے برطانوی مرکز کے اندازوں کے مطابق ہر برس برطانیہ میں تین سو بچے انسانی سمگلروں کا نشانہ بنتے ہیں۔

وزلندن میٹروپولیٹن پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر کیون ہائی لینڈ کا کہنا ہے کہ سمگل کیے جانے والے کچھ افراد تو بسوں یا کنٹینرز میں چھپا کر لائے گئے لیکن زیادہ تر قانونی طریقے سے سمگلروں کی ہمراہی میں ملک میں داخل ہوئے۔

’ان میں سے اکثریت ایک بہتر زندگی کا خواب دیکھتی ہوئی برطانیہ آتی ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے افراد کو سرحد پر روکنا ناممکنات میں سے ہے کیونکہ ان میں بیشتر کو اس وقت تک اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔

کیون ہائی لینڈ کے مطابق ’سمگل کیے جانے والے زیادہ تر افراد کو ہوٹلوں یا تفریحی صنعت میں نوکری یا بطور ترجمان کام کرنے کا لالچ دیا جاتا ہے اور جب وہ یہاں آ جاتے ہیں تو انہیں ڈرا دھمکا کر رکھا جاتا ہے‘۔

"انسانی سمگلنگ ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس کا حل کوئی ’جادوئی گولی‘ نہیں بلکہ اس سے نمٹنے کے لیے حکومتوں اور اداروں کو مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔"

مارک ہارپر، برطانوی وزیر برائے امیگریشن

رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں اس مذموم کاروبار میں بانوے گروہ ملوث ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر برطانیہ سمگل کیے جانے والے سب سے زیادہ افراد کا تعلق نائجیریا سے ہے جبکہ یورپی ممالک میں رومانیہ اس فہرست میں سب سے اوپر ہے۔

انسانی سمگلنگ روکنے کے لیے برطانیہ میں مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں جن میں سرحد پر تعینات عملے، پولیس اور طبی عملے کی ایسے افراد کی بہتر نشاندہی ان کی مدد اور تحفظ کی تربیت بھی شامل ہے۔

ورجن اٹلانٹک اور ٹامس کک جیسی فضائی کمپنیاں بھی اپنے عملے کو انسانی سمگلنگ میں ملوث اور اس کا شکار افراد کی نشاندہی کے لیے تربیت دلوا رہی ہیں۔

اس کے علاوہ ایک چوبیس گھنٹے کام کرنے والی ٹیلیفون لائن بھی قائم کی گئی ہے جہاں پروازوں کا عملہ برطانیہ میں اترنے سے قبل ہی مسافروں کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کر سکتا ہے۔

برطانیہ کے وزیر برائے امیگریشن مارک ہارپر کے مطابق انسانی سمگلنگ ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس کا حل کوئی ’جادوئی گولی‘ نہیں بلکہ اس سے نمٹنے کے لیے حکومتوں اور اداروں کو مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔