’ پاکستان انتہاپسندی سے جنگ میں دیانتدار ساتھی بنے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 19 اکتوبر 2012 ,‭ 20:04 GMT 01:04 PST

افغانستان میں طالبان مزاحمت پاکستانی سرزمین پر شدت پسندوں کے محفوظ ٹھکانوں کا نتیجہ ہے: حامد کرزئی

افغانستان کے صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ طالبان کا پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی پر حملہ پاکستان کو باور کروائے گا کہ کسی اور کے خلاف انتہاپسندی کو بطور حربہ استعمال کرنا خود اس کے مفاد میں بھی نہیں ہے۔

انہوں نے پاکستان سے کہا کہ وہ افغانستان کے ساتھ مل کر ’انتہاپسندی سے نمٹنے کے لیے دیانتدارانہ کوشش کرے‘ کیونکہ اس سے دونوں ممالک کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

جمعرات کو کابل میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل آندریس راسموسین کے ہمراہ پریس کانفرنس میں افغان صدر نے کہا خواتین کی تعلیم کے لیے مہم چلانے والی لڑکی پر قاتلانہ حملہ اس بات کا عکاس ہے کہ پاکستان کی حکمتِ عملی خود اسے بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔

حامد کرزئی نے کہا کہ انتہاپسندی ایک ایسا سانپ ہے جو اسے دوسروں پر چھوڑنے والوں کو پلٹ کر ڈس لیتا ہے۔ ’مجھے امید ہے کہ اس کڑوے سچ(ملالہ پر حملہ) نے ہمارے پاکستانی بھائیوں کو یقین دلا دیا ہوگا کہ انتہا پسندی کو دوسروں کے خلاف ایک حربے کے طور پر استعمال کرنا پاکستان کے اپنے مفاد میں بھی نہیں‘۔

اس سوال پر کہ اگر پاکستانی دعوے کے مطابق پاکستانی طالبان کا رہنما مولوی فضل اللہ صوبہ کنٹر میں موجود ہے تو کیا وہ اسے پاکستانی حکام کے حوالے کرنے کو تیار ہیں جیسا کہ پاکستانی حکومت افغان طالبان کو حوالے کرنے کا عزم رکھتی ہے، افغان صدر نے کہا کہ حکومتِ پاکستان اپنی سرزمین پر موجود افغان طالبان کو افغان حکومت کے حوالے کرنے کے لیے پرعزم نہیں۔

"مجھے امید ہے کہ اس کڑوے سچ(ملالہ پر حملہ) نے ہمارے پاکستانی بھائیوں کو یقین دلا دیا ہوگا کہ انتہا پسندی کو دوسروں کے خلاف ایک حربے کے طور پر استعمال کرنا پاکستان کے اپنے مفاد میں بھی نہیں۔"

حامد کرزئی

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں طالبان مزاحمت پاکستانی سرزمین پر شدت پسندوں کے محفوظ ٹھکانوں کا نتیجہ ہے اور ملا فضل اللہ کی افغانستان اور افغان طالبان رہنماؤں کی پاکستانی علاقے میں موجودگی کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان تفصیلی بات چیت ہوتی رہی ہے۔

خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ افغان صدر نے پاکستان پر افغانستان میں حملوں میں ملوث طالبان کو محفوظ پناہ گاہیں دینے کا الزام عائد کیا ہے جبکہ پاکستان اس الزام سے انکار کرتا آیا ہے۔

دونوں ممالک کے تعلقات سرحد پار سے بمباری، فائرنگ اور شدت پسندوں کے حملوں کے واقعات کی وجہ سے تناؤ کا شکار رہے ہیں۔دونوں ممالک ان حملوں کو روکنے میں ناکامی پر ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔