روانڈا سمیت پانچ نئے ارکان کا انتخاب

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 19 اکتوبر 2012 ,‭ 01:27 GMT 06:27 PST

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پانچ مستقل اور دس غیر مستقل ارکان پر مشتمل ہے

روانڈا، آسٹریلیا، ارجنٹائن، لكزمبرگ اور جنوبی کوریا کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا نیا غیر مستقل رکن منتخب کر لیا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی سلامتی کونسل میں بھارت، جنوبی افریقہ، كولمبيا، جرمنی اور پرتگال کی دو سال کی مدتِ رکنیت مکمل ہو گئی ہے جبکہ پانچ دیگر ارکان آذربائیجان، گوئٹے مالا، پاکستان، ٹوگو اور مراکش کی مدت دسمبر 2013 تک ہے۔

نئے ارکان میں افريقي ملک روانڈا کا سلامتی کونسل کے انتخاب خاصا اہم ہے۔

گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ روانڈا کے وزیر دفاع پڑوسی ملک جمہوریہ کانگو میں ایک باغی گروپ کی براہِ راست کمان کر رہے ہیں۔

روانڈا کو افريقي کوٹے سے بلامقابلہ منتخب کیا گیا اور اس نے جنوبی افریقہ کی جگہ لی ہے۔

193 رکنی جنرل اسمبلی میں روانڈا 148، ارجنٹائن 182، آسٹریلیا 140، لكزمبرگ 131 اور جنوبی کوریا 149 ووٹ لے کر سلامتی کونسل کے رکن بنے۔

وہیں کمبوڈیا، بھوٹان اور فن لینڈ سلامتی کونسل میں جگہ بنانے میں ناکام رہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کل پندرہ اراکین ہوتے ہیں جن میں سے پانچ ارکان امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین مستقل ہیں اور انہیں ویٹو پاور حاصل ہے۔

ان کے علاوہ باقی دس اراکین عارضی ہیں۔ عارضی ارکان کے طور پر اقوام متحدہ کے رکن ملک دو، دو سال کی مدت کے لیے منتخب جاتے ہیں۔

جمعرات کو منتخب پانچوں ارکان کی مدت یکم جنوری 2013 سے 31 دسمبر 2014 تک ہوگی۔

جمعرات کو پولنگ سے پہلے کانگو کے ایک وفد نے روانڈا کو سلامتی کونسل کا رکن بنائے جانے پر احتجاج کیا۔ دوسری طرف روانڈا کے صدر پال كاگامے نے اپنے ملک کے سلامتی کونسل کا رکن بننے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا، ’نفرت پھیلانے والے چاہے کچھ بھی کہیں،فتح انصاف اور سچائی کی ہی ہوتی ہے۔کبھی کبھی اس کے لیے ذرا سی اچھی لڑائی کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

وہیں روانڈا کی وزیر خارجہ لسے مشكوابو نے کہا ہے کہ روانڈا کی سلامتی کونسل کا ذمہ دار رکن بن کر دکھائے گا۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے روانڈا کو سلامتی کونسل کا رکن بنائے جانے کی مخالفت کی ہے۔ تنظیم کے عہدیدار فلپ بولوپيون نے کہا کہ روانڈا اب اپنے ان افسران کو بچانے کی بہتر پوزیشن میں ہو گا جو اقوام متحدہ کی پابندی کے باوجود ایم 23 باغیوں کو ہتھیار اور دیگر مدد دے رہے ہیں۔

کانگو کی حکومت نے مطالبہ کیا ہے کہ روانڈا کے جن افسران کے نام اقوام متحدہ کے ماہرین کی رپورٹ میں ہیں ان کے خلاف پابندی لگائی جائے۔

پچھلی بار روانڈا انیس سو چورانوے پچانوے میں سلامتی کونسل کا رکن تھا۔ اسی دوران روانڈا میں وہ قتل عام ہوا جس میں سو دن کے اندر آٹھ لاکھ لوگوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔

اس وقت ملک میں ہوتو قیبلے کے لوگوں کی قیادت والی حکومت تھی اور ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر لوگ تتسي قیبلے کے تھے تاہم بہت سے لبرل ہوتو لوگوں کو بھی مارا گیا تھا۔ روانڈا کے موجودہ صدر كاگامے تتسي ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔