افغانستان: بم دھماکے میں اٹھارہ افراد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 19 اکتوبر 2012 ,‭ 11:38 GMT 16:38 PST

دو ہزار ایک کے بعد افغانستان میں کم سے کم بیس ہزار عام شہری مارے جا چکےہیں۔

افغانستان میں سڑک کنارے نصب بم کے دھماکے میں کم سے کم اٹھارہ افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ واقعہ شمالی افغانستان میں اس وقت پیش آیا جب باراتیوں سے بھری ایک بس سڑک کنارے نصب بم سے ٹکرا گئی۔

افغانستان میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یہ اپنی نوعیت کے واقعات میں سب سے زیادہ ہلاکت خیز حادثہ ہے۔

بم حملے کا نشانہ بننے والی بس میں عورتیں اور بچے بھی سوار تھے۔ یہ بس صوبہ بلخ کے ضلع دولت آباد میں شادی میں شریک افراد کو لے کر جا رہی تھی۔

تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ اس بس کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا ہے یا یہ محض ایک حادثہ تھا اور نہ ہی ابھی کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

صوبے کے پولیس سربراہ شیر جان درانی نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ’ہلاک ہونے والے تمام افراد عام شہری تھے جن میں زیادہ تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔‘

حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

زخمیوں کا علاج کرنے والے سرجن داؤد روستائی کا کہنا ہے کہ زیادہ افراد کی حالت نازک ہے۔ ان کا کہنا تھا ’بعض افراد کو کم زخم آئے ہیں لیکن بعض کے زخموں کا علاج کافی لمبا ہوگا‘۔

شمالی افغانستان کو عام طور پر ملک کے دیگر حصوں کی نسبت محفوظ علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن بلخ میں حالیہ برسوں میں طالبان کی نقل وحرکت میں اضافہ ہوا ہے جسے نیٹو فورسز روکنے میں ناکام رہی ہیں۔

اگست میں اقوامِ متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ گذشتہ پانچ برسوں میں شہریوں کی ہلاکت میں کمی آئی ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ جنگ میں فریقین شہریوں کی ہلاکت کے حوالے سے کافی حساس ہو گئے ہیں۔ تاہم افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے ماتحت مشن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد اب بھی بہت زیادہ ہے۔

افغانستان میں دو ہزار ایک سے شروع ہونے والے جنگ میں ہلاک ہونے والے شہریوں کے بالکل صحیح اعداد وشمار موجود نہیں ہیں تاہم زیادہ تر اندازوں کے مطابق کم سے کم بیس ہزار عام شہری اب تک مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔