گیلاد کے بدلے قیدیوں کے تبادلے کا ایک سال

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 19 اکتوبر 2012 ,‭ 17:31 GMT 22:31 PST

ایک سال قبل اسرائیلی قیدی گیلاد شالت کے عوض رہا ہونے والے محمد الفارکا کہنا ہے کہ اگر اسرائیلی نے انہیں بندوق اٹھانے پر مجبور کیا تو وہ بندوق اٹھائیں گے جبکہ اسرائیلی قیدی گیلاد نے پانچ برس حماس کی قید میں گزارے، اس لیے انہیں رہا ہو کر ایک طرف تو قید کے باعث پیش آنے والے نفسیاتی مسائل سے نمٹنا پڑا، تو دوسری جانب اس قید سے ملنے والی شہرت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

اسرائیلی فوجی کی رہائی: ایک سال بعد

گیلاد کو حماس اور اسرائیل کے درمیان ایک معاہدے کے بعد ایک ہزار ستائیس فلسطینی قیدیوں کے بدلے میں چھوڑا گیا

اسرائیلی فوجی گیلاد شالت کو فلسطینی تنظیم حماس کی پانچ سالہ قید کے دوران اپنے ہم وطنوں کے جذباتی ردعمل کا احاطہ کرنے میں مشکل پیش آئی ہو گی۔

گیلاد کے والدین نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کی سرکاری رہائش گاہ کے باہر’گیلاد کو رہا کرواؤ‘مہم کا خیمہ نصب کر رکھا تھا۔

اس دوران سکول کے بچے ایک درخت کے گرد زرد ربن باندھا کرتے تھے اور بعض اوقات راہگیروں کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے تھے۔

گیلاد کی حالتِ زار پر توجہ دلوانے کے لیے دو ہزار دس میں ہزاروں لوگوں نے شمالی اسرائیل میں واقع ان کے گھر سے یروشلم تک بارہ روزہ مارچ میں حصہ لیا تھا۔

گیلاد ایک عام انیس سالہ فوجی نوجوان تھے، جنہیں جون دو ہزار چھ میں ایک چھاپے کے دوران عسکریت پسندوں نے گرفتار کر لیا تھا۔ ان کے عمومی پن کی وجہ سے عام اسرائیلی ان کے ساتھ ہمدردری رکھتے تھے کیوں کہ وہ اسے اپنے جیسے سمجھتے تھے۔

وہ سمجھتے تھے کہ گیلاد ان کا بیٹا، بھائی یا دوست ہو سکتا ہے۔ یا وہ خود گیلاد ہو سکتے ہیں۔

گیلاد کا چہرہ نہ صرف اسرائیل میں بلکہ دنیا کے کئی حصوں میں معروف ہو گیا۔ اسے بیجوں، کار کے سٹکروں، اور پوسٹروں پر چھاپا گیا اور خبروں اور دستاویزی فلموں میں دکھایا گیا۔

گذشتہ برس اٹھارہ اکتوبر کو جب بالآخر زرد رو اور دبلے پتلے سارجنٹ میجر شالت کو رہا کیا گیا تو میڈیا نے اس موقعے کو بہت زیادہ کوریج دی۔

انہیں حماس اور اسرائیل کے درمیان ایک معاہدے کے بعد ایک ہزار ستائیس فلسطینی قیدیوں کے بدلے میں چھوڑا گیا تھا۔

اگرچہ بعض اسرائیلی مبصرین نے کہا کہ اسرائیل ایک فوجی کے لیے جو قیمت چکا رہا ہے اس کی وجہ سے ملک خطرے میں پڑ سکتا ہے، رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق بہت سے لوگوں نے اس معاہدے کی حمایت کی تھی۔

اگرچہ بعض اسرائیلی مبصرین نے کہا کہ اسرائیل ایک فوجی کے لیے جو قیمت چکا رہا ہے اس کی وجہ سے ملک خطرے میں پڑ سکتا ہے، رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق بہت سے لوگوں نے اس معاہدے کی حمایت کی تھی۔

گیلاد نے پانچ برس قید میں گزارے، اس لیے انہیں رہا ہو کر ایک طرف تو قید کے باعث پیش آنے والے نفسیاتی مسائل سے نمٹنا پڑا، تو دوسری جانب اس قید سے ملنے والی شہرت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

اگرچہ اسرائیلی میڈیا پر انہیں دکھانے پر پابندی لگا دی گئی تھی، پھر بھی میڈیا والے اپنے آپ کو انہیں گھر لوٹنے کے بعد پہلی بار سائیکل پر سوار ہونے، یا پہلا میسج ریکارڈ کرواتے ہوئے دکھانے سے باز نہیں رکھ سکے۔

بعد میں میڈیا نے بتایا کہ وہ گیلاد پیرس گئے ہیں جہاں انھوں نے فرانسیسی صدر نکولس سارکوزی اور نیویارک کے میئر مائیکل بلوم برگ سے ملاقات کی۔

خاصا عرصہ عوامی توجہ سے کترانے کے بعد حال ہی میں گیلاد دوبارہ منظرِ عام پر آنا شروع ہوئے ہیں۔ انھوں نے تل ابیب میں اپنی چھبیسویں سالگرہ منائی، مشہور گلوکار شلومو ارتزی کے کنسرٹ میں شرکت کی، جنہوں نے اپنا ایک نغمہ گیلاد کے نام معنون کیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ کھیلوں کے مقابلوں کے دوران بھی نظر آئے ہیں۔

اب ان کے وزن میں بھی تھوڑا اضافہ ہو گیا ہے اور وہ ایک سال قبل کے مقابلے پر خاصے تندرست دکھائی دیتے ہیں۔

مصری حکام کی طرف سے گیلاد کو اسرائیل کے حوالے کرنے سے پہلے مصری ٹیلی ویژن نیل نے ان کا متنازع طور پر انٹرویو لیا تھا۔ اس کے بعد سے انہوں نے اپنی محصور زندگی کے بارے میں کم ہی بات کی تھی۔

البتہ اسرائیلی چینل 10 نے گذشتہ ہفتے نشر ہونے والی ایک دستاویزی فلم میں ان کی قید کے بارے میں مزید تفصیلات نشر کی ہیں۔

اس دستاویزی فلم کے قبل از وقت نشر ہونے والے ایک اقتباس میں گیلاد نے بیان کیا ہے وہ وقت کس طرح گزارتے تھے اور بے چینی اور اکتاہٹ کا کس طرح مقابلہ کرتے تھے۔ بعض اوقات وہ ’یاد کرنے، اور جگہوں کا تصور کرنے کے لیے‘ اپنے آبائی قصبے کا نقشہ بنایا کرتے تھے۔

گیلاد شالت چھبیس برسوں میں پہلے اسرائیلی فوجی ہیں جنھیں زندہ رہا کیا گیا

انھوں نے کہا ’میں پرامید رہنے کی کوشش کرتا تھا۔ وہاں جو چھوٹی چھوٹی اچھی چیزیں تھیں، میں ان پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کرتا تھا۔‘

انھوں نے کہا انھیں قید کے دوران اچھا کھلایا پلایا جاتا تھا، اور وہ شطرنج اور ڈومینوز کھیلتے تھے۔ ان کے ساتھ مجموعی طور پر برا سلوک نہیں کیا گیا۔ انھیں ٹی وی پر عربی خبریں دیکھنے کی اجازت تھی اور بعد میں انھیں ایک ریڈیو دے دیا گیا تھا جس پر وہ اسرائیلی خبریں سنا کرتے تھے۔

بعض اوقات وہ عسکریت پسندوں کے ساتھ مل کر فلمیں یا کھیل کے مقابلے دیکھا کرتے تھے۔

شالت نے رہا ہونے کے بعد اپنے احساسات کے بارے میں بتایا کہ’پانچ برسوں تک صرف چند لوگوں کو دیکھنے کے بعد اچانک میں نے درجنوں، سینکڑوں کا ہجوم دیکھا۔‘

’مجھے خدشہ تھا کہ آخری لمحوں میں کوئی گڑبڑ ہو جائے گی۔ جب میں نکل کر مصر پہنچا تب میری جان میں جان آئی۔‘

شالت نے اس سال اپریل سے فوج چھوڑ دی ہے۔ اب وہ ایک مقبول اخبار میں کھیلوں کے بارے میں کالم لکھتے ہیں۔

گیلاد شالت چھبیس برسوں میں پہلے اسرائیلی فوجی ہیں جنھیں زندہ رہا کیا گیا ہے۔ ان کی قسمت میں اب عوامی دلچسپی کا مرکز بنے رہنا ہے، چاہے وہ اسے پسند کریں یا نہ کریں۔

غزہ: قیدیوں کے تبادلے کے ایک سال بعد

الفار کا کہنا ہے کہ ایک سابق قیدی کی حیثیت سے ان کی عزت کی جاتی ہے

ٹھیک ایک سال پہلے اسرائیلی قیدی گیلاد شالت کے عوض ایک ہزار فلسطینی قیدیوں کے ساتھ رہا ہونے والے محمد الفارکا کہنا ہے کہ جیل میں آپ زندگی کی خوبصورت ترین چیزوں کو یاد کرتے ہیں مثلاً سورج، پیڑ پودے، ساحلِ سمندر اور خواتین وغیرہ۔

اب ایک سال بعد محمد الفار غزہ میں اپنے گھر کے آرام دہ صوفے میں سکون سے بیٹھے تھے اور اپنے کمرے میں کھڑکی سے آتی دھوپ اور نزدیک ہی ساحلِ سمندر کی خوشگوار ہوا سے لطف اندوز ہو رہے تھے اور ان کے نزدیک ہی ان کی نئی نویلی دلہن بیٹھی تھیں۔

محمد الفار نے اپنے کمرے کے کھلے دروازے کی جانب دیکھتے ہوئے کہا کہ ’اب میں آزاد ہوں اور کبھی بھی کہیں بھی آجا سکتا ہوں‘۔

محمد الفار کو سنہ انیس سو ترانوے میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ انتیس برس کے تھے وہ اٹھارہ سال جیل میں رہے اور اب وہ سینتالیس سال کے ہیں۔

محمد الفار نے بتایا کہ وہ لبریشن آف فلسطین کے پاپولر فرنٹ کے فوجی دھڑے کے سینیئر رکن ہوا کرتے تھے۔

اسرائیلی عدالت نے انہیں جان بوجھ کر ہلاک کرنے اور غیر قانونی اور غیر تسلیم شدہ تنظیم کے لیے کام کرنے کے الزام میں دو مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

میں نے الفار سے پوچھا کہ کیا یہ سب حقیقت ہے تو انہوں نے فوراً جواب دیا ’جی ہاں میں نے اسرائیلی ٹھکانوں پر حملے کیے تھے‘۔

میں نے اُن سے پوچھا کہ کیا انہیں اس بات کا افسوس ہے تو الفار نے کچھ وقفے کے بعد کہا ’نہیں‘۔

الفار کا کہنا تھا کہ ’میں قبضے کے خلاف لڑ رہا تھا اور ایسا کرنا میرا فرض تھا ہر روز فلسطینی ہلاک ہو رہے تھے، اسرائیلیوں نے ہماری زمین پر قبضہ کر لیا اور جب کوئی آپ کی زمین پر قبضہ کر لے تو آپ کو اس کے خلاف لڑنا ہی پڑتا ہے‘۔

الفار کا کہنا تھا کہ میں خود کو ایک بھی فوجی تصور کرتا ہوں بالکل اسی طرح جیسے گیلاد شالٹ تھے یا کوئی اور اسرائیلی فوجی ہو۔اور زیادہ تر فوجی اس بات سے اتفاق کریں گے‘۔

میں نے الفار سے دریافت کیا کہ اتنے برسوں تک قید میں رہنے کے بعد باہر کی دنیا میں کوئی پریشانی تو نہیں ہو رہی ہے؟

انھوں نےکہا کہ ’چیزیں سو فی صد تو معمول پر نہیں ہیں لیکن رفتہ رفتہ قابو میں آ رہی ہیں۔ میں سماج اور ماحول سے از سر نو ہم آہنگ ہو رہا ہوں۔ میں تازہ ہوا میں سانس لے سکتا ہوں‘۔

الفار کا کہنا ہے کہ ایک سابق قیدی کی حیثیت سے ان کی عزت کی جاتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ مغربی کنارہ میں موجود فلسطینی حکام ان کی ماہانہ امداد کرتے ہیں۔ انھوں نے ماہانہ امداد کی رقم تو نہیں بتائی لیکن کہا کہ ’معقول رقم‘ مل جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ شادی سے انھیں مدد ملی ہے۔ ان کی شادی کو نو ماہ ہو چکے ہیں لیکن ان کا گھر ابھی تک خشک پھولوں سے سجا ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’رفیق حیات کے آنے سے کافی کچھ تبدیل ہوا ہے اور یہ نفسیاتی استحکام کے لیے بہتر ہے۔ وفا کی شکل میں مجھے ایک ایسا ساتھی ملا ہے جس سے میں باتیں کرتا ہوں اپنے تجربات بیان کرتا ہوں۔‘

اس موسم بہار میں ان کے ہاں کسی کے آنے کی امید ہے۔ وفا کا کہنا ہے کہ قید میں جانے سے قبل اس کی شادی نہیں ہوئی تھی۔

اگر وفا کو بیٹا پیدا ہوتا ہے تو کیا وہ اس کے لیے بھی اس زندگی کی خواہش کریں گے جو انھوں نے اپنے لیے منتخب کی تھی۔

انھوں نے کہا ’میں اسے یہ نہیں کہوں گا کہ کیا کرو کیا نہیں، لیکن میں اسے قبضے کے جرائم کے بارے میں بتاؤں گا۔ جب تک قبضہ رہے گا اس وقت تک اس سے نبرد آزما ہونے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے لڑتے رہنا‘۔

کیا پھر سے الفار تشدد کی راہ پر نکل پڑیں گے؟ اس بات پر ان کا کہنا تھا ’اب میں بوڑھا ہو چلا ہوں، میں اب جوان نہیں رہا۔ احتجاج کے اور بھی طریقے ہیں۔ ان میں پرامن احتجاج بھی ہے۔ اگر اسرائیلی مجھے بندوق اٹھانے پر مجبور کریں گے تو میں بندوق اٹھاؤں گا‘۔

اسرائیل کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ شدت پسند پھر سے شدت پر اتر آئیں گے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔