یمن: القاعدہ کے حملے میں چودہ فوجی ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 19 اکتوبر 2012 ,‭ 16:19 GMT 21:19 PST
یمن دھماکہ

یمن میں تازہ دھماکہ میں دو درجن سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

یمن کے فوجی اور میڈیکل حکام نے بتایا ہے کہ جنوبی یمن کے فوجی ٹھکانے پر شدت پسندوں کے حملے میں چودہ فوجی افسر کے ساتھ بارہ القاعدہ شدت پسند بھی ہلاک ہو ئے ہیں۔

فوجی حکام کے مطابق یہ حملہ ابیان صوبے میں شقرا سے آٹھ کیلو میٹر مشرق میں صبح کے وقت ہوا جب شدت پسندوں نے فوجی اڈے کے قریب دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کو اڑا دیا۔

اس کے بعد شدت پسندوں کی دوسری جماعت نے ساحل سمندر کی جانب سے فوجی ٹھکانے پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں خوفناک جنگ چھڑ گئی۔

واضح رہے کہ جمعرات کو امریکی ڈرون حملے میں سات مشتبہ القاعدہ رکن ہلاک ہو گئے تھے۔

حکام نے ایک امریکی اخبار کو بتایا کہ مرنے والوں چودہ فوجیوں میں ایک سو پندرہ بریگیڈ کے کرنل صالح الذمہ اور دو ديگر کرنل شامل ہیں۔

سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ شدت پسند جار شہر کے باہر کھیتوں میں اجلاس کر رہے تھے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے کئی دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔

اس سے قبل وزیر دفاع جنرل محمد ناصر احمد نے جار کا دورہ کیا تھا اور القاعدہ کے خاتمے کا عہد کیا تھا۔

جون کے مہینے میں ایک فوجی آپریشن میں خطہ عرب کی القاعدہ جماعت کو جنوبی یمن میں ہزیمت اٹھانی پڑی تھی جسے انھوں نے گزشتہ سال کی بغاوت کے دوران اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ اس کے بعد سے شدت پسندوں نے خوفناک بمباری اور قتل کے ذریعے اس کا جواب دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔

جمعہ کو جس ملٹری بیس پر حملہ ہوا ہے اس میں فوج کے ایک سو پندرہویں بٹالین رہتی ہے اور یہ ابیان میں دوہزار گیارہ سے تعینات ہے۔

پہلے حملہ آور دستوں میں سے کم سے کم چار لوگوں نے دھماکہ خیز بلٹ پہن رکھا تھی اور وہ گاڑی چلاتے ہوئے کئی چیک پوسٹوں سے گزرے تھے۔

حکام نے بتایا کہ وہ اس لیے ان چیک پوسٹوں سے گزرنے میں کامیاب ہو گئے کہ انھوں نے فوجی وردیاں پہن رکھی تھیں۔ان کے ٹرک پر بھی ملٹری کی نمبر پلیم موجود تھی۔

انھوں نےمزید کہا کہ جیسے ہی وہ ملٹری کیمپ کے نزدیک پہنچے انھوں نے محافظوں پر گولیاں برسانی شروع کردیں جن میں دو گارڈ کی موت واقع ہو گئی۔

اس کے بعد تین شدت پسند ٹرک سے کود پڑے اور ان فوجیوں پر گولیاں برسانی شروع کر دیں جوگولیوں کی آواز سے جاگ اٹھے تھے۔

چوتھا شدت پسند دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کو چلاتا رہا اور فوجیوں کے ایک گروہ سے ٹکرا کر اسے دھماکے سے اڑا دیا۔

دوسرے فوجی بالآخر باقی تین شدت پسندوں کو مارنے میں کامیاب ہو گئے۔

اس کے بعد شدت پسندوں کی ایک جماعت نے ساحل کی جانب سے حملہ کر دیا لیکن انھیں پسپا کر دیا گیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔