برطانیہ: حکومت کی کٹوتیوں کے خلاف مظاہرہ

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 20 اکتوبر 2012 ,‭ 17:44 GMT 22:44 PST
کٹوتی کے خلاف جلوس

لندن میں حکومت کے کٹوتی کے فیصلے کے خلاف جلوس نکالے گئے۔

برطانیہ میں معیشت کی بحالی کے لیے حکومت کے کٹوتی کے سخت اقدامات کے خلاف ہزاروں لوگوں نے مظاہرہ کیا ہے۔

لندن کے اس سب سے بڑے جلوس میں مختلف رہنماؤں کے علاوہ لیبر پارٹی کے رہنما ایڈ ملی بینڈ نے بھی خطاب کیا۔ ان کے خطاب پر لوگوں کا ملا جلا رد عمل تھا۔

لندن کے علاوہ گلاسگو اور بلفاسٹ شہروں میں بھی ریلیاں نکالی گئی تھیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ مالی خسارہ کم کرنے کے لیے کٹوتی کے سخت اقدامات ضروری ہیں۔

جلوس سے دور میٹروپولیٹن پولیس نے کہا کہ وہ آکسفورڈ سٹریٹ کے علاقے میں غیر سماجی عناصر کے خلاف سرگرم ہے۔

ٹریڈ یونین کانگریس جو اس جلوس کی رہنمائی کر رہی تھی کا کہنا ہے کہ اس میں پورے برطانیہ سے ملازموں نے حصہ لیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان جلوسوں میں تقریبا ایک لاکھ لوگ حصہ لیا جبکہ میٹ پولیس نے مظاہرین کی تعداد نہیں بتائی ہے۔

اس سے قبل مارچ دوہزار گیارہ میں ڈھائی لاکھ لوگوں نے سرکاری شعبوں اور عوامی مراعات میں کٹوتیوں کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔

اعتراف

"کوئی بھی حکومت میں ہو کٹوتیاں تو ہونگی لیکن موجودہ حکومت نے بہت زیادہ اور بہت تیزی کے ساتھ کٹوتی کی ہے اور برطانیہ کے مسئلے کا حل یہ شکست خوردہ سادگی تو ہرگز نہیں ہے"

لیبر رہنما ملبینڈ

ہائیڈ پارک میں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ملی بینڈ نے کہا کہ وہ ان کی پارٹی اپنے ملک کے ان تمام نوجوانوں کے ساتھ ہے جو کام کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے لیے برطانیہ میں کام نہیں ہے۔

بہرحال انھوں نے اعتراف کیا کہ ’کوئی بھی حکومت میں ہو کٹوتیاں تو ہونگی لیکن موجودہ حکومت نے بہت زیادہ اور بہت تیزی کے ساتھ کٹوتی کی ہے اور برطانیہ کے مسئلے کا حل یہ شکست خوردہ سادگی تو ہرگز نہیں ہے۔‘

اس بات کو بہرحال مظاہرین نے پسند نہیں کیا لیکن ان کی اس بات پر لوگوں نے داد و تحسین سے انھیں نوازا جب انھوں نے چانسلر جارج آسبورن کا ذکر کیا جن کو سٹینڈرڈ کلاس کے ٹکٹ پر فرسٹ کلاس میں سفر کرنے پر اضافی رقم ادا کرنی پڑی تھی۔

ان کی اس بات کو بھی پذیرائی ملی جب انھوں نے کہا کہ ’حکومت لاکھ پتیوں کے ٹیکس میں تو کمی کرتی ہے لیکن عام لوگوں کے ٹیکس میں اضافہ کررہی ہے۔‘

اس جلوس میں شامل مظاہرین دو سو پچاس بس بھر کر آئے اور دوپہر تک ٹیمز ندی کے کنارے وکٹوریہ پر جمع ہوئے۔

مظاہرین نے بینروں پر جو نعرے لکھ رکھے تھے ان میں ’کیمرون نے برطانیہ کو ذبح کر دیا‘ اور ’کٹوتی برداشت نہیں کریں گے‘ شامل تھے۔

دوسری جانب میٹ پولیس نے کہا ہے کہ آکسفورڈ سٹریٹ کے علاقے میں غیر سماجی حرکتوں کے سلسلے میں کئی لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

کٹوتی کے خلاف مظاہرہ

مظاہرین نو کٹس کا پلے کارڈ اور بینر لیے ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ مارچ دو ہزار گیارہ کے مظاہرے کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان ٹریفلگر سکوائر میں تصادم ہوا تھا اور اس دن دو سو ایک لوگوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔

اس سے قبل برطانوی وزیر اعظم کیمرون نے برطانیہ کی معیشت میں بہتری کے لیے حکومت کی جانب سے مزید سخت فیصلوں کے لیے جانے کا عندیہ دیا تھا اور انھوں نے کہا تھا کہ وہ اس سادگی والے اقدام سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

بہر حال ٹریڈ یونین کانگریس کے جنرل سیکرٹری نے کہا کہ سادگي کے اقدام ناکام ہو رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پچیس لاکھ سے زیادہ افراد بے روزگار ہیں اور تیس لاکھ افراد کو اتنا کام نہیں مل پا رہا ہے کہ ان کا کام آسانی سے چل سکے اور اس کے ساتھ ساتھ گذشتہ تین برسوں سے آئے دن اجرت میں کمی ہو رہی ہے۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اجرت اور معیار زندگی میں گراوٹ کے سبب معیشت میں حوصلے کی کمی ہوئی ہے۔

بہر حال انھوں نے کہا کہ ’حالانکہ ہمارے کچھ ساتھی عام ہڑتال کی بات سوچ رہے ہیں لیکن زیادہ تر لوگوں کی رائے اس کے برعکس ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔