ایران سے دو طرفہ مذاکرات کی امریکی تردید

آخری وقت اشاعت:  اتوار 21 اکتوبر 2012 ,‭ 03:02 GMT 08:02 PST

مغربی طاقتوں کا خیال ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام ہتھیاروں کی تیاری کے لیے ہے

وائٹ ہاؤس نے جوہری پروگرام پر ایران کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات پر آمادگی کی اطلاعات کی تردید کی ہے۔

یہ خبر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہوئی تھی جس میں نامعلوم حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ایران پہلی مرتبہ بات چیت پر راضی ہوا ہے لیکن یہ مذاکرات چھ نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل نہیں ہوگی۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ وہ ایران سے اس کے متنازع جوہری پروگرام پر دو طرفہ بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن اس کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

مغربی طاقتوں کا خیال ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام ہتھیاروں کی تیاری کے لیے ہے جبکہ ایران اس الزام سے انکار کرتا آیا ہے۔

امریکی اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران نے دو طرفہ بات چیت پر ’اصولی‘ اتفاق کر لیا ہے۔

تاہم امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان ٹامی وائٹر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یہ سچ نہیں کہ امریکہ اور ایران نے دو طرفہ مذاکرات یا امریکی صدارتی انتخاب کے بعد کسی بھی ملاقات پر اتفاق کیا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم ایک سفارتی حل کے لیے کوشاں ہیں اور کہہ چکے ہیں کہ اس سلسلے میں ایران سے دو طرفہ بات چیت ہو سکتی ہے‘۔

ایران کے جوہری معاملے پر اس کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی پر مشتمل گروپ سے بات چیت تاحال بےنتیجہ رہی ہے۔

مغربی طاقتوں نے اس سلسلے میں ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے سخت اقتصادی پابندیوں کا سہارا بھی لیا ہے۔

ایران کا مسئلہ امریکہ میں آج کل جاری صدارتی انتخابی مہم میں خارجہ پالیسی پر بحث کا کلیدی نکتہ ہے۔

امریکہ کے موجودہ صدر اور ڈیموکریٹ امیدوار براک اوباما اور ان کے ریپبلکن حریف مٹ رومنٹی پیر کو اپنے تیسرے اور آخری صدارتی مباحثے میں آمنے سامنے ہوں گے اور اس مباحثے کا موضوع بھی امریکی خارجہ پالیسی ہے۔

مٹ رومنی اب تک براک اوباما پر ایران کے مسئلے پر نرم رویہ اپنانے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔

براک اوباما مستقبل قریب میں ایران کے جوہری اثاثوں کے خلاف امریکی یا اسرائیلی فوجی کارروائی کے حامی نہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ ایران کو جوہری بم بنانے سے روکنے کے لیے پرعزم ہیں۔

ٹامی وائٹر کے بیان میں بھی کہا گیا ہے کہ ’صدر واضح کر چکے ہیں کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکیں گے اور اس کے ہمیں جو بھی کچھ کرنا پڑا ہم کریں گے‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔