اردن: القاعدہ کی منصوبہ بندی ناکام

آخری وقت اشاعت:  پير 22 اکتوبر 2012 ,‭ 09:16 GMT 14:16 PST

ریاستی خبر رساں ایجنسی پیترا کے مطابق ملزمان کا شام سے دھماکہ خیز مواد اور مارٹر گولے لانے کا ارادہ تھا

اردن میں حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے گیارہ ایسے شدت پسندوں کو گرفتار کیا ہے جن کا مبینہ طور پر دارالحکومت عمان میں مغربی سفارتکاروں اور تجارتی مراکز کو نشانہ بنانے کا ارادہ تھا۔

حکومتی ترجمان سمیع معتا کا کہنا تھا کہ ملزمان کو گذشتہ چند روز میں گرفتار کیا گیا اور وہ پولیس کی حراست میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شدت پسند اسلحہ ہمسایہ ملک شام سے لائے اور عراق میں القاعدہ کے کارکنوں نے انھیں غیر رسمی بم بنانے میں مدد کی۔

اطلاعات کے مطابق حملوں کی منصوبہ بندی جون کے ماہ سے کی جا رہی تھی۔ ایک اعلیٰ اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اردن کے انٹیلیجنس ادارے نے ان افراد پر نظر رکھی ہوئی تھی اور ان کے دھماکہ خیز مواد پر تجربات کو بھی مانیٹر کیا جا رہا تھا۔

اہلکار نے بتایا کہ یہ القاعدہ کا ایک ایسا منصوبہ تھا جو کہ عمان میں سنہ دو ہزار پانچ میں ہونے والے حملوں کی تاریخ نو نومبر کے لیے تیار کیا جا رہا تھا۔

حکام کی جانب سے دی جانے والی اطلاعات کے مطابق سنہ دو ہزار پانچ کے حملوں کے بعد یہ اردن میں القاعدہ کا شدید ترین حملہ ہو سکتا تھا۔

ریاستی خبر رساں ایجنسی پیترا کے مطابق ملزمان کا شام سے دھماکہ خیز مواد اور مارٹر گولے لانے کا ارادہ تھا۔

شدت پسندوں کا نشانہ شاپنگ سنٹرز، رہائشی علاقے، غیر ملکی شہری اور سفارتکار تھے۔

اردن کی سرحد شام سے منسلک ہے اور ملک میں کم از کم دو لاکھ شامی پناہ گزین موجود ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔