’پاکستان میں فوج، آئی ایس آئی ہی کی چلتی ہے‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 23 اکتوبر 2012 ,‭ 01:41 GMT 06:41 PST

امریکہ میں صدارتی انتخابات سے قبل ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار براک اوباما اور ریپبلکن پارٹی کے امیدوار میٹ رومنی کے درمیان تیسرے اور آخری مباحثے میں دونوں امیدوار اس بات پر متفق نظر آئے کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے طاقت کا استعمال آخری حربہ ہوگا۔

صدر اوباما اور مٹ رومنی کے درمیان تیسری بحث سے قبل سیاسی حکمت عملی وضع کرنے والے مبصروں نے دونوں امیدواروں کو یہ صلاح دی تھی کہ وہ پاکستان پر اپنی توجہ مرکوز کریں کیونکہ ان کے مطابق آنے والے دنوں میں پاکستان امریکہ کی خارجہ پالیسی کے لیے انتہائی اہم ہوگا۔

دونوں حریف پاکستان کو امریکی خارجہ پالیسی میں نظر انداز کرنے کے حق میں نہیں تھے۔ رومنی نے پاکستان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان ناکام ہوتا ہے تو افغانستان کے لیے بہت بڑا خطرہ پیدا ہو جائے گا اس لیے وہ پاکستان کو صحیح سمت چلنے میں مدد دیں گے۔

انھوں نے اوباما پر الزام لگایا کہ ایک آدمی کو پکڑنے کے لیے زمین آسمان ایک کرنے کی ضرورت نہیں تھی اور اسے پکڑنے کے لیے پاکستان سے اجازت لی جانی چاہیے تھی

صدر اوباما نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس آدمی کو پکڑنے کے لیے درحقیقت زمین اور آسمان ایک کرنے کی ضرورت تھی اور ہم نے ایسا ہی کیا اور اگر ہم نے پاکستان کی اجازت لی ہوتی تو ہم اسامہ کو کبھی نہیں پکڑ سکتے تھے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو اس کے حال پر نہیں چھوڑا جا سکتا وہ بھی ایسے میں جب اس کے پاس سو سے زیادہ جوہری ہتھیار ہیں اور وہاں فوج اور آئی ایس آئی ہی کی چلتی ہے۔

رومنی نے کہا تکنیکی طور پر پاکستان ایک حلیف ملک ہے مگر وہ ایک حلیف ملک کی طرح کام نہیں کر رہا۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان ہمارا دوست ملک ہے اور اسے چھوڑا نہیں جا سکتا۔

ڈرون حملوں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر رومنی نے کہا وہ اسے جاری رکھیں گے۔

فوج اور آئی ایس آئی

"پاکستان کو اس کے حال پر نہیں چھوڑا جا سکتا وہ بھی ایسے میں جب اس کے پاس سو سے زیادہ جوہری ہتھیار ہیں اور وہاں فوج اور آئی ایس آئی ہی کی چلتی ہے"

صدر اوباما

امریکہ کی خارجہ پالیسی کے بارے میں یہ مباحثہ مبصرین کے مطابق چھ نومبر کو ہونے والے انتخابات میں فیصلہ کن ثابت ہو گا کیونکہ عوامی رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق دونوں امیدواروں کے درمیان کڑا مقابلہ ہے۔

اس مباحثہ میں ماڈریٹر سی بی ایس ٹی وی کے بان شیفر نے اس کا آغاز لیبیا اور مشرق وسطی میں تبدیل ہوتی ہوئی صورت حال کے بارے میں سوال سے کیا۔

مباحثے کے ابتدائی حصہ میں اوباما کا پلڑا بھاری دکھائی دے رہا تھا۔ مٹ رومنی نے لیبیا میں امریکی سفارت کاروں کی ہلاکتوں پر براک اوباما کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انھوں نے شدت پسندوں کے بارے میں درست اندازہ نہیں لگایا۔

ریپبلکن امیدوار مٹ رومنی نے القاعدہ کے رہنما اوسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کی کارروائی پر صدر اوباما کو مبارک باد پیش کی لیکن انھوں نے کہا کہ امریکہ مذہبی انتہا پسندی کے اس گرداب سے اس طرح نہیں نکل سکتا۔

انھوں نے اوباما انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے ان کے اقدامات نہ کافی تھے۔

صدر اوباما نے مٹ رومنی پر تنقید کرتے ہوئے کہا خارجہ پالیسی کے معاملات پر ان کے بیان کا کوئی محور نہیں ہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ مٹ رومنی دو کھرب ڈالر فوج پر خرچ کرنا چاہتے ہیں جس کا کوئی مطالبہ فوج کی طرف سے نہیں کیا جا رہا۔

انھوں نے کہا کہ ان کی صدارت کے دوران ہر سال فوجی بجٹ میں اضافہ ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ کے فوجی اخراجات دنیا کے دس بڑے ملکوں کے مجموعی اخراجات سے بھی زیادہ ہیں۔

صدر اوباما نے کہا کہ جب تک وہ امریکہ کے صدر ہیں وہ جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتے۔ انھوں نے کہا انھوں نے ایران پر شدید ترین پابندیاں عائد کی ہیں جس کی وجہ سے ایران کی معیشت کا برا حال ہے۔

انھوں نے کہا وہ کہہ چکے ہیں کے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے کوئی بھی طریقہ رد نہیں کیا گیا۔ لیکن ایران کے خلاف قبل از وقت جنگ نہیں شروع کی جا سکتی۔

"بی بی سی اردو سروس کے سربراہ عامر احمد خان نے امریکی صدارتی مباحثے پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدارتی مباحثے کو دیکھنے کے لیے اگر کسی پاکستانی نے منگل کی صبح چھ بجے اپنے ٹی وی سیٹ کو آن کیا ہو گا تو وہ اب ہو سکتا ہے کہ یہ سوچ رہے ہوں کہ ایسا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اگر ان میں سے کوئی بھی جیت جاتا ہے تو اس بات کے بہت کم امکانات ہیں کہ ان کی ملک میں کوئی تبدیلی آئے گی پاکستان جوہری پروگرام، دہشت گردی کے نیٹ ورک، طاقتوار انٹیلیجنس ادارے اور ایک ناکام ریاست میں تبدیل ہونے جیسے منفی اسباب کے باعث پاکستان دنیا کے لیے اہم رہے گا۔کیا یہ امریکہ کا اتحادی ہے؟ صرف تکنیکی طور پر، امریکی صدارتی امیدوار میٹ رومنی کے مطابق اگرچہ اس کا رویہ اتحادی جیسا نہیں ہے، اس لیے ابھی طلاق دینے کا وقت نہیں آیا ہے یہاں تک کہ اگر ڈرون حملے ہی اس شادی کو قائم رکھنے کےلیے واحد راستہ نظر آئیں۔ اوباما انتظامیہ کی ڈرون حملوں کے حوالے سے پالیسی ہی واحد جگہ تھی جس پر پاکستان کو توقع تھی کہ دونوں امیدواروں کے درمیان اختلاف رائے ہو سکتا ہے لیکن اس پر بھی قابلِ احترام طریقے سے اتفاق رائے ہو گیا۔ اگر دونوں صدارتی امیدواروں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو تو یہ توقع نہیں کہ میٹ رومنی کے مشروط امداد کے ذریعے ملک کو درست سمت میں لیے جانے پر زور دیے جانے پر پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی نہ ہو۔ جبکہ بہت ساروں نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران اربوں ڈالر ملک میں آنے کے بارے میں سنا ہے اور ان میں سے چند ایک نے انہیں محسوس بھی کیا ہے۔"

بی بی سی اردو سروس کے سربراہ عامر احمد خان نے امریکی صدارتی مباحثے پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدارتی مباحثے کو دیکھنے کے لیے اگر کسی پاکستانی نے منگل کی صبح چھ بجے اپنے ٹی وی سیٹ کو آن کیا ہو گا تو وہ اب ہو سکتا ہے کہ یہ سوچ رہے ہوں کہ ایسا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اگر ان میں سے کوئی بھی جیت جاتا ہے تو اس بات کے بہت کم امکانات ہیں کہ ان کی ملک میں کوئی تبدیلی آئے گی

پاکستان جوہری پروگرام، دہشت گردی کے نیٹ ورک، طاقتوار انٹیلیجنس ادارے اور ایک ناکام ریاست میں تبدیل ہونے جیسے منفی اسباب کے باعث پاکستان دنیا کے لیے اہم رہے گا۔

کیا یہ امریکہ کا اتحادی ہے؟ صرف تکنیکی طور پر، امریکی صدارتی امیدوار میٹ رومنی کے مطابق اگرچہ اس کا رویہ اتحادی جیسا نہیں ہے، اس لیے ابھی طلاق دینے کا وقت نہیں آیا ہے یہاں تک کہ اگر ڈرون حملے ہی اس شادی کو قائم رکھنے کےلیے واحد راستہ نظر آئیں۔

اوباما انتظامیہ کی ڈرون حملوں کے حوالے سے پالیسی ہی واحد جگہ تھی جس پر پاکستان کو توقع تھی کہ دونوں امیدواروں کے درمیان اختلاف رائے ہو سکتا ہے لیکن اس پر بھی قابلِ احترام طریقے سے اتفاق رائے ہو گیا۔

اگر دونوں صدارتی امیدواروں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو تو یہ توقع نہیں کہ میٹ رومنی کے مشروط امداد کے ذریعے ملک کو درست سمت میں لیے جانے پر زور دیے جانے پر پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی نہ ہو۔ جبکہ بہت ساروں نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران اربوں ڈالر ملک میں آنے کے بارے میں سنا ہے اور ان میں سے چند ایک نے انہیں محسوس بھی کیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔