مناسکِ حج کی ادائیگی آخری مراحل میں

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 26 اکتوبر 2012 ,‭ 01:22 GMT 06:22 PST
حج

گزشتہ سال حج کے دوران ملکی معیشت میں دس کڑوڑ ڈالر کا اضافہ ہوا

مسلمانوں کے سب سے بڑے مذہبی اجتماع جج کے مناسک کی ادائیگی آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہے۔

اس برس پچیس لاکھ سے زائد مسلمان اسلام کا ایک اہم رکن ادا کرنے کے لیے سعودی عرب پہنچے ہیں۔

جمعرات کی رات مزدلفہ میں قیام اور پھر نمازِ فجر کی ادائیگی کے بعد حجاجِ کرام جمعہ کو منیٰ جائیں گے اور رمی(شیطان کو کنکریاں مارنے کا عمل) کے بعد جانوروں کی قربانی کا فریضہ سرانجام دینے کے بعد احرام کھول دیں گے۔

اس سے قبل جمعرات کو حجاج نے حج کا رکنِ اعظم وقوف عرفہ ادا کیا اور سعودی عرب کے مفتی اعظم نے مسجد نمرہ میں خطبۂ حج دیا۔

میدانِ عرفات میں سنت نبوی کی پیروی کرتے ہوئے ان مسلمانوں نے ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ مسجد نمرہ میں ظہر و عصر کی نمازیں قصر و جمع باجماعت ادا کیں اور خطبہ سنا۔

مختلف اقوام، زبانوں اور رنگ و نسل ان لاکھوں لوگوں نے ایک ہی لباس میں لبیک للھم لبیک کہتے ہوئے غروب آفتاب تک عبادت کرتے ہوئے دن گزارا۔

غروب آفتاب کے ساتھ ہی حجاج کرام عرفات سے مزدلفہ پہنچے۔ مغرب اور عشا کی قصر نمازیں وہاں ادا کیں۔ رات بھر قیام اور فجر کی نماز کے بعد حجاج منیٰ پہنچیں گے اور بڑے شیطان کو سات سات کنکریاں ماریں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔