کیا عرب اتحاد کا خواب محض خواب ہی رہے گا؟

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 26 اکتوبر 2012 ,‭ 22:21 GMT 03:21 PST

جمال عبدالناصر کی کرشماتی شخصیت بہت سے عربوں کے لیے اب بھی کشش رکھتی ہے۔

بعض خواب کبھی نہیں مرتے۔ عرب اتحاد کا خواب بھی ان میں سے ایک ہے۔

لیکن آج کل جو بحث چھڑی ہوئی ہے اس کا موضوع یہ نہیں ہے کہ یہ خواب کیسے شرمندۂ تعبیر کیا جائے، بلکہ یہ کہ کیا اسے محض ماضی پرستی قرار دے کر طاقِ نسیاں پر رکھ دیا جائے؟

لیکن کچھ عرب اب بھی اپنے دل میں امید کی شمع جلائے بیٹھے ہیں۔

مصر کے سابق صدر جمال عبدالناصر کے کچھ حامیوں نے قاہرہ میں ایک سیٹلائٹ چینل کھولا ہے جو ان کے خیال میں بین العرب اتحاد کے خواب کی راہ ہموار کرے گا۔

لیکن ان من چلوں کا راستا پرخار ہے۔ اگرچہ عرب ملکوں کے مشترکہ مذہب، مشترکہ تاریخ اور مشترکہ ثقافتی ورثے کی بنیاد پر متحد ہونے کی رومانوی خواہش پالنے کا خواب دیکھنے میں وہ اکیلے نہیں ہیں، لیکن موجودہ دور کے زمینی حقائق کچھ ایسے ہیں کہ یہ کام جوئے شیر لانے کے مترادف لگتا ہے۔

پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں میں صدر جمال عبدالناصر کے عروج کے زمانے میں حالات زیادہ سازگار تھے۔ کئی عرب ملک نوآبادیاتی نظاموں کا طوق اتار کر پھینک رہے تھے، انھیں جمال عبدالناصر کے اس خطے کے اپنے قدموں پر کھڑا ہونے، اور مغربی ممالک کے خلاف جذبات کے پرچم تلے اکٹھے ہونے، اور یورپ اور امریکہ کی بجائے غیر وابستہ ممالک کے ساتھ اشتراک کا خواب بہت پرکشش معلوم ہوتا تھا۔

لیکن ان تمام سازگار حالات کے باوجود اتحاد کا خواب محض خواب ہی رہا۔ ریاستی حقائق خوابوں سے زیادہ طاقتور ثابت ہوئے۔ انیس سو اٹھاون میں شام اور مصر کا اتحاد متحدہ جمہوریہ عرب کی صورت میں ضرور سامنے آیا لیکن یہ ان مل بے جوڑ شادی صرف تین سال ہی چل سکی۔

انیس سو سڑسٹھ میں اسرائیل کے ہاتھوں مصر اور دوسرے عرب ملکوں کی عبرتناک شکست کے بعد عرب ملکوں کو احساس ہوا کہ صدر ناصر کے تجویز کردہ بین العرب اتحاد سے ان کا کھویا ہوا وقار بحال نہیں ہو گا۔

آج تیونس اور مصر میں عرب بیداری کے انقلابات کے بعد ان عرب ملکوں میں بھی حالات ڈانواں ڈول ہیں جہاں کوئی انقلاب نہیں آیا، اس لیے اتحاد کے امکانات تاریک نظر آتے ہیں۔

مذہبی، نسلی اور فرقے وارانہ تحریکوں نے سیاسی ایجنڈے اختیار کر لیے ہیں، جس سے نہ صرف خطہ ایک دوسرے کی مقابل صف آرا دھڑوں میں تقسیم ہو گیا ہے، بلکہ کئی ملک اپنے بقا کی جنگ بھی لڑ رہے ہیں۔

حتیٰ کہ انفرادی تحریکیں بھی سنیوں اور شیعوں کے درمیان تفرقہ بازی کا شکار ہیں۔

یہ صورتِ حال علاقائی سطح پر شیعہ ایران (جس میں اسے عراق، شام، اور لبنان کی حزب اللہ تحریک کی حمایت حاصل ہے) اور سنی سعودی عرب اور مصر کے درمیان تنازعے کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہے۔

دوسری طرف یہ شیعہ سنی دھڑا بھی اندر سے اتنے ٹھوس نہیں ہے۔ سعودی عرب اپنے وہابی تصورِ اسلام کی ترویج کے لیے کوشاں اور مصر، تیونس، اردن اور شام میں اخوان المسلمین کی بڑھتی ہوئی طاقت سے نالاں ہے۔

بڑے سوال اب بھی باقی ہیں: کیا عراق ایک وفاقی ریاست کے طور پر قائم رہے گا یا دو یا تین ملکوں میں بٹ جائے گا؟ کیا شمالی عراق کے کرد شامی اور ممکنہ طور پر ترک کردوں کے ساتھ مل کر اپنا نیا ملک بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے؟ اور شام کا کیا بنے گا؟

معاشی بدحالی کی آگ

"زبان اور ثقافت کے علاوہ دوسری چیز جو اس خطے میں مشترک ہے وہ معاشی بدحالی کی آگ ہے، جسے نوجوانوں کی بے روزگاری اور امیر و غریب کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج سے مزید ہوا ملی ہے۔ان مسائل کو حل کرنے کے لیے بین العرب سرمایہ کاری اور تعاون سے مدد ملے گی"

پورے خطے میں کچھ ایسی کھچڑی پکی ہوئی ہے کہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ دو سال بعد اس کا نقشہ کیا ہو گا۔ ہو سکتا ہے کہ برطانیہ اور فرانس نے کھینچ کر جو نیا مشرقِ وسطیٰ تخلیق کیا تھا اس کی سرحدوں کی کچھ لکیریں مٹ جائیں یا اپنی جگہ بدل لیں۔اس موقعے پر عرب اتحاد کی بات کرنا خام خیالی کے مترادف ہے۔

جب تک موجود حالات کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھ نہیں جاتا، یہ کہنا مشکل ہے کہ عرب اتحاد کا خوش نما خواب تاریخ کی دراز میں پڑا پڑا گرد کے تلے اٹ جائے گا یا اس کی نئے سرے سے جھاڑ پونچھ کر کے دوبارہ سامنے لایا جائے گا۔تاریخ بتاتی ہے کہ مؤخر الذکر کے امکانات بہت کم ہیں۔

ایک سعودی کالم نگار لکھتا ہے ’ہم عربوں نے دشمنوں کے مقابلے پر خود کہیں زیادہ عرب مارے ہیں۔‘

ممکن ہے کہ مستقبل میں اس خطے میں کو مذہبی اور فرقہ وارانہ وابستگیوں کی بجائے معاشی مفادات کی گوند کی مدد سے زیادہ بہتر طریقے سے جوڑے رکھا جا سکے۔

زبان اور ثقافت کے علاوہ دوسری چیز جو اس خطے میں مشترک ہے وہ معاشی بدحالی کی آگ ہے، جسے نوجوانوں کی بے روزگاری اور امیر و غریب کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج سے مزید ہوا ملی ہے۔ان مسائل کو حل کرنے کے لیے بین العرب سرمایہ کاری اور تعاون سے مدد ملے گی۔

اس لیے ایک سیٹلائٹ ٹی وی چینل کی جانب سے معاشی ہم آہنگی کو فروغ دینے سے زیادہ فائدہ ہو گا۔ لیکن ظاہر ہے کہ اس بات میں وہ رومانوی کشش نہیں ہے جو جمال عبدالناصر کے ناکام خواب میں تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔