اہم چینی رہنما کے خلاف رشوت کی تحقیقات

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 27 اکتوبر 2012 ,‭ 22:39 GMT 03:39 PST
ژیلائی

بو ژيلائي اور ان کی اہلیہ گوکائی لائی

چين ميں ايک اہم رہنما کے خلاف باقاعدہ تحقيقات شروع کر دي گئي ہيں۔ بوژيلائي پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنے اختيارات کا ناجائز استعمال کيا۔

چینی خبر رساں ادارے سنہوا کے مطابق چيني استغاثے کي جانب سے ان کے خلاف تحقيقات کے شروع ہونے سے پہلے بو ژيلائي کو چين کي نيشنل پيپلز کانگريں سے نکال ديا گيا۔

چيني کميونسٹ پارٹي سے ان کے نکالے جانے کے نتيجے ميں انھيں حاصل تمام مراعات بھي ختم ہو گئيں۔ جن ميں انہيں قانوني کارروائي سے حاصل استثنا بھي شامل ہے۔

اس سے پہلے بو ژيلائي پولٹ بيورو کے رکن تھے اور ان کے بارے ميں خيال کيا جاتا تھا کہ انھيں حکومت ميں اور بڑي اور اہم ذمے دارياں بھي سونپي جا سکتي ہيں۔

گوکائی لائی اور مقتول برطانوی تاجر نیل ووڈ

گوکائی لائی اور مقتول برطانوی تاجر نیل ووڈ

گزشتہ ماہ ان پر بدعنواني اور اور اختيارات کے ناجائز استعمال کے الزامات سامنے آئے۔ ان الزامات کے مطابق انھوں رشوتیں لیں اور پارٹی کے نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی۔ جس کي بنا پر انھيں کميونسٹ پارٹي سے نکال ديا گيا۔

ان کي اہليہ بھي ان دنوں جيل ميں ہيں اور ان پر برطانوي تاجر نيل ہےووڈ کے قتل کا الزام ہے۔

ان کی اہلیہ گو کائی لائی کو اگست میں گرفتار کر کے جیل میں ڈالا گیا تھا۔

بو ژیلائی کے ایک سابق نائب، پولیس چیف وانگ لی جن کو بھی گرفتار کر کے جیل میں ڈالا گیا ہے۔

جب سے مسٹر بو کے خلاف تحقیقات کا اعلان کیا گیا ہے انھیں کہیں دیکھا نہیں گیا۔

واضح رہے کہ کمیونسٹ پارٹی کا اجلاس آٹھ نومبر کو ہونے والا ہے جس میں نئی قیادت کے سامنے آنے کا امکان ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔