یوکرائن: نیم برہنہ عورتوں کا احتجاج

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 27 اکتوبر 2012 ,‭ 00:45 GMT 05:45 PST
یوکرین

ہم مردوں کی بالا دستی کی تین جہتوں کے خلاف لڑ رہے ہیں

بالائی لباس اتار کر احتجاج کرنے والی عورتوں کو مغربی دنیا میں تو پذیرائی ملی ہے لیکن کیا اس کا اثر یوکرین کے انتخابات اور عورتوں کے حقوق پر بھی پڑے گا؟

یوکرائن میں عورتوں کی اس تنظیم کا نام ’فيمن‘ ہے اور اس کے ہیڈ کوارٹر یا صدر دفتر کے دروازے پر دو بڑے پستانوں تراش کر بنائے گئے ہیں جن پر نیلا اور پیلا يوکرينی رنگ کیا گیا ہے۔

پولیس کی جانب سے ہراساں کیے جانے کی شکایتوں اور دشمنوں کی اتنی بڑی تعداد پیدا کر لینے کے باوجود ایسا نہیں لگتا کہ وہ کوئی جداگانہ حیثیت اختیار کرنے کا اردادہ رکھتی ہیں۔

دارالحکومت كيف کے اہم چوراہے کے پاس واقع ایک عمارت کے تہہ خانہ کے اندر فلیٹ میں خواتین کے اس گروپ میں شامل عورتوں میں سے سے کسی کی بھی عمر 25 سال سے زیادہ نہیں ہے۔

ہر قسم کے فرنیچر سے محروم اس فلیٹ میں چار خواتین ایک بینچ پر بیٹھی ہیں۔

اولکساندرا شیوچینكو جو اس گروپ میں سو سے لمبی یا بلند قامت ہیں گروپ کی نظریہ ساز ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہم مردوں کی بالا دستی کی تین جہتوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ عورتوں کا جنسی استحصال، آمریت اور مذہب‘۔

اولکساندرا شیوچینكو نے 2008 میں اس تحریک کا آغاز کرنے میں مدد کی تھی۔

یہ تحریک سوویت یونین سے الگ ہونے کے بعد یوکرائن میں خواتین کی حالت کو سامنے رکھتے ہوئے شروع کی گئی تھی۔ تب یوکرائن سے خواتین کو بیرون ملک اسمگلنگ کیا جاتا تھا یا ان کو لے جا کر ان سے جسم فروشی کرائی جاتی تھی۔ یا پھر انٹرنیٹ کے ذریعے ان کی شادیاں کرائی جاتی تھیں۔

مغربی یوکرائن کی ایک یونیورسٹی میں آزادیِ نسواں پر بحث مباحثہ کرنے والے گروپ نے ابتدا کی اور ان میں سے ہی ایک كيف میں احتجاج کے طور پر سامنے آ گیا۔

یوکرین

فیمین گروپ کی ایک رکن نیم برہنے مظاہرہ کر رہی ہے

ایسا بھی نہیں ہے کہ ’فیمین‘نے پہلی بار میں ہی نیم عریاں ہوکر یا بالائی لباس اتار کر مظاہرہ کرنا شروع کر دیا تھا۔ لیکن کچھ وقت کے بعد انھیں احساس ہوا کہ کپڑے اتار کر پیغام کو وسیع سطح پر زیادہ سے زیادہ لوگوں تک آسانی سے پہنچایا جا سکتا ہے۔

اولکساندرا شیوچینكو کا کہنا ہے کہ ’صدیوں سے مرد خواتین کے جسم اور جنسی کا استعمال کرتے کرتے آ رہے ہیں‘۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اپنے جسم اور جنس پر کنٹرول اور اختیار خود ہمیں حاصل ہونا چاہیے اور یہ فیصلہ کرنا ہمارا کام ہے کہ ہم اپنے جسم کا استعمال کیسے کریں، ہم اپنے سینے دکھائیں یا چھپائیں‘۔

یوکرین میں لوگ اب تک انہیں سنجیدگی سے نہیں لیتے ہیں، انہیں اپنا ہی ڈھنڈورا پیٹنے والے کے طور پر دیکھتے ہیں، یہاں تک کہ کچھ لوگ شک کرتے ہیں کہ یہ حکومت کا ہی چکر ہے جو توجہ ہٹانے اور حکومت پر پڑنے والے کو کم کرنے کے لیحے ہے۔

عورتوں کی اس تحریک کو مغربی ممالک میں زیادہ پذیرائی ملی ہے۔ ایڈیٹروں ایسی تصاویر اور خبریں چطپنا اچھا لگتا ہے جس میں ایسا عورتوں کی تصویریں ہوں جن کے سینے اور بازؤوں پر مطالبات لکھے ہوں۔ یا جو نیم برہنہ ہوں۔

اولکساندرا شیوچینكو کا کہنا ہے، ’مغربی ممالک سے انہیں کافی ہمدردی ملی ہے، ساتھ ہی کئی گروپوں نے انہیں مدعو کیا ہے اور مالی مدد بھی کی ہے." ‘۔

لندن

یوکرین میں عورتوں کے حق میں لندن میں مظاہرہ کرنے والی نیم برہنے عورتوں کے خلاف پولیس کی کارروائی

وہ کہتی ہیں کہ یوکرائن میں عورتوں کے ان کے گروپ میں ابھی چالیس ارکان ہیں جو ٹاپلِس یا بالائی لباس اتار کر مظاہرے کرنے کے لیے تیار ہیں جب کے بیرونی ممالک میں ایک سو ایسی سرگرم عورتوں نے مظاہروں میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔

کچھ مغربی ممالک کی خواتین کارکنوں نے اس کا خیر مقدم کیا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے وہ مسئلہ جو کئی دہائیوں دبے ہوئے پڑے تھے اور کبھی لوگوں کے سامنے نہیں آ پاتے تھے اور خبر نہیں بنتے تھے، سب کی نظروں میں آ گئے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔