’بودھ مسلم فساد میں تباہی کے ثبوت منظرِعام پر‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 27 اکتوبر 2012 ,‭ 06:59 GMT 11:59 PST
برما سیٹلائٹ تصویر

ان میں ان مقامات کو دکھایا گیا ہے جہاں ہیومن رائٹس واچ کے مطابق نذر اتش کر دیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے برما کے مغربی علاقوں میں نسلی فسادات میں ہونے والی تباہی کے مبینہ تصویری ثبوت پیش کیے ہیں۔

مغربی برما میں راخائن کے علاقے میں مقامی بودھ آبادی کے روہنگیا مسلمانوں پر حملوں اور تشدد کے دوران ایک ہفتے میں کم از کم سڑسٹھ ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے برما کی حکومت سے رخائن میں تشدد روکنے کے مزید کوششیں کرنے کے لیے کہا ہے۔

بی بی سی کے ایشیا کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ ہیومن رائٹس واچ نے جو سیٹلائٹ تصاویر دی ہیں، اس سے مغربی برما میں ایک کمیونٹی کی زبردست بربادی کے پختہ ثبوت ملے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر میں کیاک پیو نامی ساحلی قصبے میں پینتیس ایکڑ کے علاقے کو جلا کر تباہ کر دیا گیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس تازہ تشدد کے دوران آٹھ سو سے زائد مکانات اور ہاؤس بوٹس نذرِ آتش کی گئی ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں زیادہ تر روہنگیا مسلمان آباد تھے جو کہ بودھ آبادی کے حملوں کا نشانہ بنے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ مقامی آبادی میں سے بیشتر جان بچانے کے لیے سمندر کے راستے نقل مکانی کر گئی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے ڈپٹی ڈائریکٹر برائے ایشیا فل رابرٹسن کا کہنا ہے کہ ’برما کی حکومت کو راخائن کے علاقے میں حملوں اور تشدد کا سامنا کرنے والی روہنگیا آبادی کو فوراً تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کے مطابق ’جب تک حکام تشدد کی بنیادی وجوہات کا حل تلاش نہیں کرتے حالات مزید خراب ہی ہوتے رہیں گے‘۔

خیال رہے کہ جمعہ کو اقوامِ متحدہ نے بھی خبردار کیا ہے کہ ملک کے مغربی علاقوں میں نسلی فسادات میں ہلاکتوں میں اضافہ حکومت کی جانب سے اصلاحات کے عمل کے لیے نقصان دہ ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے دفتر سے جاری شدہ بیان میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں اشتعال انگیز تقاریر، دھمکیوں اور ہدف بنا کر حملوں کا سلسلہ فوری طور پر رک جانا چاہیے۔

بیان کے مطابق اگر ایسا نہ ہوا تو برما کی حکومت کی جانب سے ملک میں اصلاحات کی کوششیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔

راخائن کے علاقے میں رواں برس جون میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد پرتشدد جھڑپوں کے یہ تازہ واقعات ہیں۔ ہنگامی حالت کے نفاذ سے قبل اس علاقے میں جھڑپوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ بڑے پیمانے پر روہنگیا مسلم آبادی کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا تھا۔

علاقے کی غیر مسلم آبادی کے مطابق تازہ جھڑپوں کے دوران سکیورٹی اہلکاروں نے ان پر بھی فائرنگ کی جس سے جانی نقصان بھی ہوا۔

جمعہ کو فساد کے دوران چھ قصبوں میں جھڑپیں ہوئیں جس کے بعد من بیا اور مراک اوو سمیت متعدد علاقوں میں رات کا کرفیو نافذ کر دیا گیا۔

یہ تاحال واضح نہیں کہ تازہ جھڑپیں کیوں شروع ہوئیں۔ بودھ اور مسلم آبادی نے ایک دوسرے پر تشدد شروع کرنے کے الزامات لگائے ہیں۔

ادھر بنگلہ دیش کے سرحدی حکام کا کہنا ہے کہ کئی کشتیوں پر سوار روہنگیا مسلمانوں کی بڑی تعداد برما سے دریا عبور کر کے بنگلہ دیش میں داخلے کی اجازت ملنے کے منتظر ہیں۔

ایک اہلکار کے مطابق گزشتہ چند دن کے دوران باون روہنگیا مسلمانوں کو واپس برما بھیجا گیا ہے۔

انھی حالات کی وجہ سے اس سال برما بھر کے مسلمانوں نے عید الاضحٰی یعنی قربانی کی عید نہ منانے کا فیصلہ کیا ہے۔

رخائن میں بدھ مت اور مسلمانوں کا طویل عرصے سے اختلاف رہا ہے۔ اس ریاست میں رہنے والے زیادہ تر مسلمانوں میں روہنگيا کہلاتے ہیں اور برمی حکومت روہنگيا لوگوں کو غیر قانونی طور پر نقل مکانی کر کے آنے والے قرار دیتی ہے۔

اگست میں حکومت نے بدھووں اور مسلمانوں کے درمیان تشدد کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن قائم کیا تھا۔برمی حکومت اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی قیادت میں تحقیقات قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔