ڈرون کے حامی نہیں مگر ووٹ پھر بھی اوباما کا

آخری وقت اشاعت:  اتوار 28 اکتوبر 2012 ,‭ 03:31 GMT 08:31 PST

بریڈ کے لیے اوباما کا سیاہ فام ہونا انہیں ووٹ دینے کی اہم وجہ ہے

جب ٹرین پر سفر کرنا ہو اور ٹکٹ خریدنے کے لیے چھوٹا نوٹ نہ ہو تو کیا کریں؟

اجنبی شہر میں یہ نہیں معلوم تھا کہ نصف گھنٹے کے سفر کے لیے ایک ایک ڈالر کے نوٹ موجود ہونا ضروری ہوتے ہیں۔

ترقی یافتہ ملک ہے مگر ٹکٹ مشین نے دس ڈالر سے زیادہ کا نوٹ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

پریشانی ہوئی کہ اب کیا کریں۔ دیگر مسافروں سے پوچھا تو ان کہ پاس دینے کو کچھ نہیں تھا۔ آخر سٹیشن پر موجود ایک سیاھ فام شخص کام آئے۔

گٹار تھامے وہ چند سکوں اور ڈالرز کے لیے روز یہاں شام کو مسافروں کو اپنے گانوں سے مسرور کرتے ہیں۔ مگر بیس ڈالر کا چینج ان کے پاس بھی نہیں تھا۔ بریڈ نامی شخص نے تجویز پیش کی کہ وہ گانا گائیں گے اور پھر نوٹوں کی بارش ہو گی۔

بریڈ نے گٹار بجانا شروع کیا اور ہم دونوں نے ساتھ مل کر ایگلز نامی امریکی بینڈ کا مشہور گانہ ’ہوٹل کیلیفورنیا‘ گایا۔ لوگ آتے گئے اور نوٹ اور سکے زمین پر پڑے گٹار کے ڈبے میں ڈالتے گئے اور یوں بیس ڈالر کا چینج مل گیا۔

بریڈ موسیقی کی دنیا میں اپنا نام کمانے کے خواہش مند ہیں تاہم انہیں کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔

مالی مشکلات کے باوجود ان کا کہنا ہے کہ وہ صدر براک اوباما کے لیے ہی ووٹ ڈالیں گے اور اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ بھی صدر اوباما کی طرح سیاہ فام امریکی شہری تھے۔

امریکہ میں مقیم مسلمانوں اور خاص کر پاکستانیوں میں ووٹ ڈالنے کے حوالے سے ایک تضاد پایا جاتا ہے۔ ایک طرف وہ براک حسین اوباما سے اپنے آپ کو ہم شناس تصور کرتے ہیں۔ دوسری جانب انہیں اوباما انتظامیہ کی جانب سے پاکستان میں ڈرون حملوں پر تشویش بھی ہے۔

مسلمانوں کی ایک اکثریت سے ملنے کے لیے میں عید الاضحیٰ کے موقع پر ریاست میری لینڈ کے ایک اسلامی مرکز پر گئی، جہاں پر مختلف قوموں کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد جمع تھی اور انگریزی، اردو، ہندی، ملییالم، عربی زبانیں بولنے والے افراد دو الفاظ یعنی عید مبارک، بول کر ایک بندھن میں بندھے ہوئے نظر آ رہے تھے۔

پاکستانیوں کی زیادہ تعداد صدر اوباما کے حق میں ہے

ریاست میری لینڈ کو ڈیموکریٹس کی حامی ریاست مانا جاتا ہے اور اندازوں کے مطابق یہاں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب ایک فیصد ہے۔

جس خاتون یا مرد سے پوچھا کہ دونوں صدارتی امیدواروں میں سے کس کی خارجہ پالیسی آپ کو زیادہ پسند ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ڈرون حملے رک جانے چاہیئیں تاہم وہ صدر براک اوباما کو ہی ووٹ ڈال رہے ہیں۔

تاہم جب میں ان سے یہ بات کیمرے کے سامنے کہنے پر اصرار کرتی تو سب سختی سے منع کر دیتے تھے کہ امریکہ کا سکیورٹی سے متعلق محکمہ ان کو اس بات پر پکڑ لے گا۔

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ بہت سارے پاکستانی اور مسلمانوں کو ریپبلکن جماعت کے صدارتی امیدوار مٹ رومنی کی جماعت ریپبلکن کا خاندانی اخلاقیات پر زور بھی بہت پسند ہے۔

چھتیس سالہ نادیہ کا تعلق پاکستان سے ہے اور وہ امریکہ میں ڈیزائنر ملبوسات فروخت کرتی ہیں۔

نادیہ کھل کر ریپبلکن جماعت کی حمایت کرتی ہیں کیونکہ ان کے خیال میں وہ چھوٹے کاروباروں کے لیے منصوبہ بندی اور پالیسیاں بنائیں گے اور ان کا عقیدہ بھی پاکستانی کلچر سے ملتا چلتا ہے۔

’میری والدہ بھی گذشتہ انتخابات کے دوران براک اوباما کو ووٹ ڈالنے جا رہی تھیں کیونکہ ان کے والد مسلمان تھے مگر میں نے جب اپنی والدہ کو ان کی پالیسیوں کے بارے میں بتایا تو انہوں نے ریپبلکن جماعت کے امیدوار جان مکین کو ووٹ دیا۔‘

امریکہ، جہاں کئی نسلوں، مذاہب اور شہریت کے افراد مقیم ہیں، سیاست میں شناخت بہت اہم ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مٹ رومنی امیر یا سفید فام افراد میں مقبول ہیں جبکہ براک اوباما تارکینِ وطن اور اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو زیادہ پسند ہیں۔

امریکہ میں مسلمانوں کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کے مطابق امریکہ میں مقیم 68 فیصد مسلمان صدر اوباما کی حمایت کرتے ہیں جبکہ صرف سات فیصد ریپبلکن جماعت کے حمایتی ہیں۔

کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کے رائے عامہ کے ایک جائزے میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں میں ڈیموکریٹک جماعت کی جانب جھکاؤ زیادہ ہے اور اس کی ایک وجہ ریپبلکن جماعت میں مسلم مخالف رجحان بھی ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔