’مکہ، زائرین کو ماحول دوست بنانے کی کوشش‘

آخری وقت اشاعت:  پير 29 اکتوبر 2012 ,‭ 00:17 GMT 05:17 PST

کہا جاتا ہے کہ دنیا میں لوگوں کا سب سے بڑا اجتماع حج کے موقع پر ہوتا ہے۔

ماحولیات کے ماہرین کے مطابق کسی ایک مقام پر لوگوں کی ایک کثیر تعداد کی کئی دنوں تک موجودگی ماحولیاتی تبدیلیوں میں کردار ادا کرتی ہے۔

مکہ کی ام القری یونیورسٹی میں اینوائرمنٹ فزکس یا ماحولیاتی فزکس کے پروفیسر عبدل العزیز سروج کا کہنا ہے کہ حج کے لیے آنے والے زائرین کو ماحول کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی ہے۔

’حج کے موقع پر مکہ دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سے ایک بن جاتا ہے۔‘

خوراک کا ضائع ہونا، بسوں اور کاروں کا دھواں اور ہوٹلوں میں استعمال ہونے والی توانائی جیسے عوامل ماحول کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔

پروفیسر سروج حج کے دوران پانی کے لیے استعمال ہونے والی پلاسٹک کی بوتلوں کی ایک بڑی تعداد کے استعمال پر بہت تنقید کرتے ہیں۔

پروفیسر سروج کے مطابق پانی کی بوتلیں پیٹرولیم مصنوعات سے تیار کی جاتی ہیں جو ماحول کو آلودہ کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہیں اور ان بوتلوں کو دوبارہ قابل استعمال بنا کر ان سے قالین اور فلیس کے کپٹرے تیار کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حج کے موقع پر لاکھوں کی تعداد میں پانی کی خالی بوتلیں کوڑے دانوں میں نہیں پہنچ پاتی ہیں اور یہ مقدس مقامات پر بکھری پڑی ہوتیں ہیں۔

مکہ میں حکام کے لیے ایک مشکل چیلنج ہے کہ کس طرح سے حج پر آنے والے تیس لاکھ زائرین کو گرین حج یا ماحول دوست حج پر آمادہ کیا جا سکے۔

مکہ میں حکام نےطے کیا ہے کہ شہر کو ایک ماحول دوست شہر بنایا جائے۔

مکہ کے میئر اسامہ ال بار کا کہنا ہے کہ وہ مساجد کو ماحول دوست بنانا چاہتے ہیں۔

’ ہم نے بین الاقوامی کمپنیوں کو دعوت دی ہے کہ شمسی توانائی سے چلنے والا ایک بڑا گریڈ سٹیشن بنایا جائے، جس سے مکہ میں سرنگوں، مساجد، گلیوں اور ہوٹلوں کو روشن کیا جا سکے۔‘

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ شہر میں ایک سو بیس کلومیٹر طویل زیر زمین ریلوے نظام کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔

اس نظام کی مدد سے حج کے دنوں میں ٹریفک کے سنگین مسئلے پر کسی حد تک قابو پانے میں مدد ملے گی۔

گزشتہ سال حج زائرین کے لیے مونو ریل نظام شروع کیا گیا تھا لیکن سعودی عرب میں پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کا رجحان فروغ نہیں پا سکا ہے۔

پروفیسر سروج کا کہنا ہے کہ ملک میں سستا تیل اور شہریوں میں بڑی گاڑیاں رکھنے کا رجحان حکام کی حوصلہ شکنی کرتا ہے کہ وہ پبلک ٹرانسپورٹ کا نیٹ ورک قائم کریں۔

انہیں اس بات پر بھی تشویش ہے کہ لوگ زندگی میں کتنی بار حج کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حج پر آنے والے زائرین کی ایک بڑی تعداد ہوائی جہازوں کا استعمال کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں بارے میں بھی سوچنا چاہیے کہ ہوائی جہازوں کی وجہ سے فضائی آلودگی میں کتنا اضافہ ہوتا ہے،

انہوں نے کہا کہ بوسنیا سے ایک سینتالیس سالہ شخص سناد ہاصق حج کے لیے گزشتہ سال دسمبر میں پیدل روانہ ہوئے اور کئی ملکوں سے گزرتے ہوئے تین سو چودہ دنوں میں ستاؤن سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے سعودی عرب پہنچے۔

اسی طرح سے سال دو ہزار دس میں جنوبی افریقہ سے دو نوجوان سائیکل پر تقریباً گیارہ ہزار کلومیٹر کا فاصلہ نو ماہ میں طے کر حج کے لیےسعودی عرب پہنچے۔

انہوں نے کہا کہ مکہ کو ایک ماحول دوست شہر بنانے کے لیے دو حل ہیں۔

ان میں سے ایک مخصوص راستوں پر گاڑیوں کا داخلہ بند کر دیا جائے اور دوسرا شہر بھر میں ری سائیکلنگ کوڑے دان نصب کر دیے جائیں۔

تاہم انہوں نے افسوس کے ساتھ کہا کہ حج پر آنے والے زائرین کے لیے ماحولیاتی تبدیلیاں کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔