ایران کا بحری دستہ سوڈان پہنچ گیا

آخری وقت اشاعت:  منگل 30 اکتوبر 2012 ,‭ 02:35 GMT 07:35 PST

ایرانی جہاز، بحری جہازوں کے اس بین الاقوامی بیڑے کا حصہ رہے ہیں جو کہ خلیجِ عدن کی نگرنی کرتا ہے

ایرانی ریاستی میڈیا کا کہنا ہے کہ ’پڑوسی ممالک کے لیے امن اور سیکورٹی کا پیغام لیے‘ ایک ایرانی بحری دستہ سوڈان کے ساحل پر پہنچ گیا ہے۔

ریاستی خبر رساں ایجنسی ارنا ہے کہنا ہے کہ ایران سے گذشتہ ماہ روانہ ہونے والے اس دستے میں ایک چھوٹا جنگی بحری جہاز اور ایک مابردار جہاز شامل ہے۔

اس دستے کی آمد سوڈانی دارالحکومت خرطوم کی ایک ہتھیاروں کی فیکٹری کے دھماکوں کے بعد تباہ ہونے کے موقع پر ہوئی ہے۔

سوڈان نے اقوام متحدہ میں شکایت کی ہے کہ ان دھماکوں کا ذمہ دار اسرائیل ہے۔ مانا جاتا ہے کہ تباہ ہونے والی فیکٹری ایران کے زیرِ انتظام تھی۔

اسرائیل نے ان الزامات کی تردید نہیں کی ہے۔

ایرانی بحریہ کا کہنا ہے کہ یہ دستہ ’ہمسایہ ممالک کے لیے امن اور دوستی کا پیغام لے کر آیا ہے اور اس کا مقصد جہاز رانی کی سمندری راہ داریوں کی حفاظت اور قذاقی دہشتگردی کو روکنا ہے۔‘

بحری دستے کی آمد پر ایرانی حکام کی سوڈانی بحریہ کے اہم اہلکاروں سے ملاقات کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

ارنا نے یہ بات ظاہر نہیں کی کہ ایرانی دستے کس بندر گاہ پر پہنچا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ دستہ ایران کی جنوبی بندر گاہ بندر عباس سے ستمبر میں روانہ ہوا تھا۔

سنہ دو ہزار آٹھ میں سومالی قذاقوں کے ہاتھوں ایرانی کارگو جہاز کے اغوا کے بعد سے یہ ایرانی جہاز بحری جہازوں کے اس بین الاقوامی بیڑے کا حصہ رہے ہیں جو کہ خلیجِ عدن کی نگرنی کرتا ہے۔

ایران نے بحری بیڑے کی آمد کو ہتھیاروں کی فیکٹری میں ہونے والے دھماکوں سے منسلک نہیں کیا ہے۔ ان دھماکوں میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تاہم غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق یہ فیکٹری ایرانی حکام فلسطینی تنظیم حماس کے لیے ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

رپورٹوں کے مطابق بدھ کی شب چار اسرائیلی جنگی طیاروں نے فیکٹری پر دو بم گرائے تھے۔ ان طیاروں کے ہمراہ کمانڈوز کو لیے، ہیلی کاپٹر بھی تھے جن کا مقصد طیاروں کے گرائے جانے کی صورت میں فضائی عملے کو بچانا تھا۔ ایک اور جہاز سوڈانی فضائی دفاعی نظام اور ریڈار سسٹم کو غیر فعال کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کو مبینہ طور پر اس سوڈانی فیکٹری اور ایرانی حکام کے تعلق کے بارے میں دستاویزات حماس کے ایک اہم اہلکار سے ملی تھیں۔ سنہ دو ہزار دس میں دبئی میں اس اہلکار کے قتل کا الزام بھی موساد پر ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔