قندھار:' خونریزی کا مرکز'۔

آخری وقت اشاعت:  پير 29 اکتوبر 2012 ,‭ 10:21 GMT 15:21 PST
قندھار کے ایک چوک کی تصویر

اعدادوشمار کے مطابق قندھار میں گزشتہ دس برسوں میں پانچ سو زیاہ بڑے رہنماؤں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں

افغانستان کے جنوبی شہر قندھار میں تشدد کے واقعات عام ہیں لیکن حال ہی میں وہاں جس طرح سیاسی رہنماؤں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس سے عام آدمی ہی نہیں بلکہ افغانستان پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین بھی حیران ہیں۔

قندھار افغانستان کا تاریخی دارالحکومت رہا ہے اور تاریخ بتاتی ہے کہ جو قندھار جیت لیتا اس کے پورے ملک پر اقتدار ہوتا تھا۔

قندھار افغانستان کے صدر حامد کرزئی کا آبائی صوبہ ہے اور اس کے علاوہ ملا عمر سمیت طالبان کے کئی بڑے رہنماؤں کا اس علاقے سے تعلق ہے۔ قندھار کو پشتو ثقافت کے مرکز کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔

لیکن جنوبی افغانستان کا یہ علاقہ جنگ کا اہم مرکز رہا ہے اور طالبان باغیوں زیادہ تر کاررائیاں یہیں پر ہوئی ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار اور متعدد ذرائع کی جانب سے جمع کیے گئے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ قندھار میں گزشتہ دس برسوں میں پانچ سو سے زیادہ بڑے سیاسی رہنماؤں اور بااثر قبائلی رہنماؤں کو ہلاک کیا گیاہے۔

ان ہلاکتوں میں سب سے اہم نوعیت کا واقعہ صدر حامد کرزئی کے بھائی احمد ولی کرزئی کی ہلاکت ہے جنہیں ان کے محافظ نے گولیوں سے مار دیا تھا۔

طالبان کے تشدد کا نشانہ بننے والے ديگر نامور ناموں میں کئی صوبائی پولیس کے سربراہ، میئر، ڈسٹرکٹ گورنرز، دیہی اور مذہبی رہنماء، اساتذہ، ڈاکٹر اور حکومت اور نیٹو افواج کے حامی عام شہری شامل ہیں۔

افغانستان کے دیگر حصوں میں بھی ٹارگیٹ کلنگ کے واقعات پیش آتے رہے ہیں لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پورے افغانستان میں اس نوعیت کی جتنی ہلاکتیں ہوئیں ہیں ان سے زیادہ صرف قندھار میں ہوئی ہیں۔یہاں گزشتہ کئی برسوں سے اس قسم کی ہلاکتیں اگر روزانہ نہیں توہفتےمیں ضرور ہوتی ہیں۔

"قندھار میں سیکورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے اور سیکورٹی اور حکومتی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیےمزید اقدامات کیے جارہے ہیں۔ اور بہتری کے اس عمل کو روکنے کے لیے دشمن سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بنارہے ہیں"

توریالے علی، گورنر، قندھار

قندھار کے عوام کو لگتا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں میں سیاسی رہنماؤں کی ایک پوری نسل کو قتل کردیا گیا ہے۔

قتل و غارت کا یہ سلسلہ اس وقت مزید تیز ہوگیا جب سنہ 2010 میں امریکی اور نیٹو افواج نے طالبان کو قندھار سے بھگانے کی کوشش میں وہاں فوجی مہم کا آغاز کیا۔

اس وقت امریکی اور نیٹو افواج کا منتر تھا ' جو قندھار میں ہوتا ہے، وہ افغانستان میں ہوتا ہے۔ اگر قندھار ہاتھ سے نکلتا ہے تو افغانستان بھی جائےگا'۔

صدر حامد کرزئی کے لئے ملک کی سلامتی کی صورتحال ایک بڑا چیلنج ہے۔

طالبان جنگجوؤں کے خلاف اس مہم کو دہشت گردی سے نمٹنے کی ایک اہم حکمت عملی تصور کیا گیا۔

قندھار صوبے کے گورنر توریالے علی ویسا کہتے ہیں ' قندھار میں سیکورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے اور سیکورٹی اور حکومتی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیےمزید اقدامات کیے جارہے ہیں۔ اور بہتری کے اس عمل کو روکنے کے لیے دشمن سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بنارہے ہیں'۔

جنوبی افغانستان میں ہونے والے تقریبا ہر قتل کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔ طالبان نے افغان رہنما‎ؤں سمیت ' بیرونی افواج کی حمایت کرنے والے ہر شخص' پر حملے کی دھمکی دی ہے۔

اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ طالبان کے ان حملوں سے انہیں نفسیاتی طور پر برتری کا احساس ہوا اور سستی شہرت بھی ملی ہے۔ ایک ایسے شہر میں جہاں تشدد کوئی نئی چیز نہیں ہے ان ہلاکتوں نے عوام کو حیران کیا ہے۔

زیادہ تر مقامی لوگ افغانستان کے پڑوسی ملک پاکستان کو ان ہلاکتوں کے لیے ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ یہ ایسا الزام ہے جس سے پاکستان بار بار انکار کرتا رہا ہے۔

اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پرایک مقامی شہری نے بتایا ' افغانستان میں چالیس سے زیادہ ملکوں کے فوجیوں نے ڈیرہ ڈالا ہوا ہے اور ان میں سے زیادہ تر کے جاسوسی نیٹ ورک قندھار میں موجود ہیں۔ ہمیں نہیں پتہ کہ کون یہاں کیا کر رہا ہے اور ان سب کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے'۔

قندھار میں رہنے والے ایک شہری عبدالحامد کہتے ہیں، ' ہر دن جب میں گھر سے باہر نکلتا ہوں، مجھے پتہ نہیں ہوتا کہ میں شام کو زندہ گھر لوٹوں گا یا نہیں'۔

لیکن ان حملوں کا سب سے بڑا اثر شہر کے بنیادی ڈھانچے پر پڑا ہے اور جن لوگوں نے سرکاری نوکریاں قبول کی ہیں انہیں اپنی جان کا خطرہ لاحق ہے۔

ایک مقامی سرکاری اہلکار نے اپنا نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے ' مجھے کئی بار دھمکیاں ملی ہیں۔ لیکن میں اپنے ملک اور اپنے لوگوں کی خدمت کرنا چاہتا ہوں'۔

طالبان جنگجو لوگوں کے دھمکانے کے لئے ان کے گھروں کے باہر رات کے وقت اپنا تحریری پیغام چسپاں کر دیتے ہیں۔ پیغام میں لکھا ہوتا ہے کہ سرکاری نوکری چھوڑو ورنہ جان سے مارے جاؤ گے۔

قبائلی رہنماء نسل در نسل منتقل ہونے والی قدیم مقامی عقل و فہم اور تجرباتی علم رکھتے ہیں اور ان قبائلی عمائدین کے ہلاکتوں سے مقامی حکمت و علم کو بھی نقصان پہنچا ہے جس پر افغان حکومت قندہار میں امن لانے کے لیے انحصار کرتے ہیں۔

پشتو کا ایک مشہور قول ہے کہ ’آپ کے سو مر جائیں لیکن ایک نہ مرے‘۔

مقامی لوگ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ ان ہلاکتوں سے قندہار کو بڑا نقصان ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔