سو سے زائد روہنگیا مسلمانوں کے ڈوبنے کا خدشہ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 31 اکتوبر 2012 ,‭ 17:49 GMT 22:49 PST

رخائیں میں ہونے والے فسادات میں اسّی کے قریب لوگ ہلاک ہوئے اور ہزاروں گھروں کو آگ لگا دی گئی۔

بنگلہ دیش میں پولیس کا کہنا ہے کہ خلیجِ بنگال میں ایک کشتی الٹنے سے خدشہ ہے کہ ایک سو بیس افراد ڈوب گئے ہیں۔

زندہ بچ جانے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ ڈوبنے والے زیادہ تر افراد روہنگیا مسلمان تھے جو برما میں نسلی فساد کے دوران نقل مکانی کر کے آئے تھے۔

مقامی مچھیروں نے تیرہ افراد کو بچا لیا ہے۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب اس کشتی کے مسافروں کو ملائیشیا جانے والی بڑی کشتی میں منتقل کیا جا رہا تھا۔

برما کی ریاست رخائن میں دس روز قبل دوبارہ پھوٹ پڑنے والے فسادات کے باعث بیس ہزار مسلمان بے گھر ہوئے ہیں۔

ان فسادات میں اسی کے قریب لوگ ہلاک ہوئے اور ہزاروں گھروں کو آگ لگا دی گئی۔

مغربی برما کی ریاست رخائن میں اِسی برس کے اوائل میں ہونے والے فسادات کے باعث ستّر ہزار روہنگیا لوگ بے گھر ہوئے تھے۔

رخائن لوگوں کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں پر کیے جانے والے حملوں کے باعث پھوٹنے والے تشدد کو روکنے کے لیے حکومت کو علاقے میں ایمرجنسی نافذ کرنا پڑی۔

رواں برس جون میں بے گھر ہونے والے افراد یا تو دارالحکومت ستوے کے مہاجر بستیوں میں موجود ہیں یا سرحد پار بنگلہ دیش کی ریاست میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

برما کے رخائن بودھ آبادی جو اکثریت میں ہیں اور روہنگیا مسلمانوں کے درمیان طویل عرصے سے رنجش چلی آ رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق مذہبی اور لسانی طور پر اقلیت روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے۔

برما کی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ لوگ برصغیر سے حکومت کر کے وہاں آئے ہیں۔

حکام روہنگیا مسلمانوں کو غیر قانونی تارکینِ وطن قرار دیتے ہیں اور نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف عوام میں بڑے پیمانے پر ناپسندیدگی کے جذبات ہیں۔

حالیہ جھڑپوں میں روہنگیا مسلمانوں نے سکیورٹی فورسز پر رخائن بودھوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کو ہلاک کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

برما کی حکومت نے متاثرہ علاقوں میں سنیچر کو کرفیو نافذ کر دیا تھا۔ جبکہ علاقے میں اضافی سکیورٹی اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں لیکن تاحال تشدد کے واقعات جاری ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔