سعودی عرب: شادی کی تقریب میں آگ، ہلاکتیں

آخری وقت اشاعت:  بدھ 31 اکتوبر 2012 ,‭ 15:11 GMT 20:11 PST
انٹرنیٹ پر شائع ہونے والی تصویر

آتش زدگی کے واقعے کے بعد انٹرنیٹ پر شائع ہونے والی تصویر

سعود عرب میں حکام کے مطابق ملک کے مشرقی علاقے میں ایک شادی کی تقریب کے دوران آگ لگنے سے کم از کم پچیس افراد ہلاک اور تیس کے قریب زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ واقعہ ابقیق کے ایک گاؤں این بدر میں پیش آیا۔ جس وقت آگ لگی اس وقت گھر کے صحن میں سینکڑوں افراد جمع تھے۔

اطلاعات کے مطابق شادی کی تقریب کے دوران فائرنگ سے مبینہ طور پر ایک ہائی والٹیج پاور لائن گر پڑی اور اُس سے نکلنے والی چنگاریوں سے آگ لگی۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاور لائن صحن کے بیرونی دھاتی دروازے سے بھی ٹکرائی اور کئی لوگ کرنٹ لگنے کے باعث ہلاک ہوئے۔

اس حادثے میں ہلاک و زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین شامل ہیں۔

ایک مقامی اخبار الیوم نے سول ڈیفنس چیف جنرل عبداللہ خوشیماں کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک شامیانے کو آگ لگی جس میں صرف خواتین موجود تھیں۔

سعودی ریاست کے سخت قانون کے مطابق شادیوں میں خواتین و مرد حضرات کے لیے بیٹھنے کا علیحدہ علیحدہ انتظام کیا جاتا ہے۔

حادثے کے بعد انٹرنیٹ پر شائع ہونے والی ایک تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک بڑے صحن میں کُرسیاں بکھری پڑی ہیں۔

زخمی ہونے والوں کو آمارکو اور سینٹرل ابقیق ہسپتالوں میں داخل کروا دیا گیا ہے۔

سول ڈیفنس کے ترجمان کرنل محمد العجمی کا کہنا ہے کہ مشرقی صوبے کے گورنر شہزادہ محمد بن فہد بن عبدالعزیز نے حکام کو واقعے کی تحقیقات کا حُکم دیا ہے۔

سعودی حکام نے گذشتہ ماہ شادیوں میں آتش بازی پر پابندی عائد کی تھی، جو قبائلی علاقوں میں مقبول رواج ہے ۔

سنہ انیس سو ننانوے میں بھی سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا جس میں 76 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔