نائجیرین فوج پر حقوقِ انسانی کی خلاف ورزی کا الزام

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 1 نومبر 2012 ,‭ 04:54 GMT 09:54 PST

ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے نائیجیریا کی فوج پر بوکو حرام کے خلاف کارروائی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ نائجیریا کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اسلامی شدت پسند گروہ بوکوحرام کے خلاف کارروائی کے دوران بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔

ایک رپورٹ میں ایمنیسٹی نے الزام لگایا کہ ان خلاف ورزیوں میں ماورائے عدالت ہلاکتیں، جبری گمشدگیاں اور تشدد شامل ہیں۔

نائجیریا کی فوج کے ایک ترجمان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ قانون کے دائرے میں رہ کر کارروائی کرتے ہیں۔

بوکو حرام گروہ ایک اسلامی ریاست کے قیام کے لیے تحریک چلا رہا ہے اور اس پر سینکڑوں افراد کی ہلاکتوں کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

اس گروہ نے دو ہزار نو سے مرکزی اور شمالی نائجیریا میں کارروائیاں کی ہیں۔

اپنی رپورٹ میں ایمنیسٹی نے بوکو حرام پر بھی بڑے پیمانے پر مظالم کا الزام عائد کیا ہے جن میں ہلاکتیں، گرجا گھروں اور سکولوں کا جلایا جانا اور میڈیا کے خلاف حملے شامل ہیں۔

لیکن اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سخت گیر کارروائی نے مزید تشدد کی راہ ہموار کی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سیکرٹری جنرل سلیل شیٹی نے کہا ’ان حملوں اور جوابی حملوں کے چکر میں دونوں جانب سے غیر قانونی تشدد ہوا ہے جس کے انتہائی خطرناک نتائج ان لوگوں پر ظاہر ہوئے ہیں جو اس کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں‘۔

"لوگ ایک خوف کے ماحول میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں ایک طرف انہیں بوکوحرام کی جانب سے حملوں کا خطرہ ہے تو دوسری طرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا ہے جن کی اصل زمہ داری ان کا تحفظ ہے۔"

سلیل شیٹھی، سیکریٹری جنرل ایمنسٹی انٹرنیشنل

سلیل نے مزید کہا کہ ’لوگ ایک خوف کے ماحول میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں ایک طرف انہیں بوکوحرام کی جانب سے حملوں کا خطرہ ہے تو دوسری طرف ان قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا ہے جن کی اصل ذمہ داری ان کا تحفظ ہے‘۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ ایسی اطلاعات عام ہیں جہاں فوج لوگوں کو گولیاں مار کر یا حراست کے دوران تشدد کے نتیجے میں ہلاک کر رہی ہے اور ایسے واقعات ملک کے شمال مشرقی حصے میں خاص طور پر زیادہ ہیں۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خوف کا ایک ایسا ماحول ہے جس میں لوگ ان جرائم کے بارے میں اطلاع فراہم کرنے سے ڈرتے ہیں اور صحافی بھی انہیں رپورٹ کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے نائجیریا کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ بوکوحرام کے حوالے سے حقائق کو واضح کرے اور ان جرائم کے ذمہ داروں کا مواخذہ کر کے انہیں سزا دے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔