’ابوجہاد‘ کی ہلاکت کی تفصیل منظرِ عام پر

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 2 نومبر 2012 ,‭ 06:23 GMT 11:23 PST

ابوجہاد نے یاسر عرفات کے ساتھ مل کر تحریک آزادئ فلسطین کی بنیاد رکھی تھی۔

اسرائیل میں حکام نے فلسطینی رہنما یاسر عرفات کے قریبی ساتھی اور تحریک آزادئ فلسطین (پی ایل او) کے شریک بانی ابو جہاد کے قتل کے حوالے سے تفصیلات ظاہر کرنے پر عائد پابندی ہٹا دی ہے۔

یہ یقین کیا جاتا تھا کہ ابو جہاد کو انیس سو اٹھاسی میں اسرائیلی ایجنٹوں نے تیونس میں قتل کیا تھا لیکن اسرائیل نےکبھی بھی اس کو سرکاری طور پر تسلیم نہیں کیا تھا۔

اسرائیلی حکام نے ایک مقامی اخبار یدیعوت آہارونوت کو ابو جہاد کو گولی مار کر ہلاک کرنے والے اسرائیلی کمانڈو ناہیوم لیو کا انٹرویو شائع کرنے کی اجازت دی ہے۔

ناہیوم لیو دو ہزار میں انتقال کر گئے تھے لیکن ابھی تک ان کے بارے میں معلومات سامنے نہیں آئی تھیں۔

ابو جہاد کا اصلی نام خلیل الوزیر تھا۔ انھوں نے یاسر عرفات کے ساتھ مل کر تحریک آزادئ فلسطین کی بنیاد رکھی تھی۔

ان کو اسرائیل پر کئی تباہ کن حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا تھا۔انھیں سولہ اپریل انیس سو اٹھاسی کو تیونس کے دارالحکومت میں پی ایل او کے ہیڈ کوارٹر میں گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔

یروشلم میں بی بی سی کے نمائندے کیون کنولی کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کسی کو اس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ اسرائیل نے ابو جہاد کو قتل کروایا ہے۔

یدیعوت آہارونوت کے مدیر اسرائیلی حکام کے ساتھ کئی مہینوں سے اس قتل کی تفصیلات شائع کرنے کی اجازت کے لیے بات چیت کر رہے تھے اور اس معاملے پر عدالت میں جانے کے بجائے بالاخر حکام نے اخبار کو یہ کہانی شائع کرنے کی اجازت دے دی۔

ابوجہاد کو ہلا ک کرنےکے لیے جاسوسی کا کام موساد نے کیا جبکہ سیرت متکال کمانڈو یونٹ نے انھیں ہلاک کیا۔

اس آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے ناہیوم لیو نے کہا تھا ’میں نے ابو جہاد کے حوالے سے ساری معلومات حاصل کر لی تھیں۔ وہ کئی غیرفوجی لوگوں کے خلاف کئی خونریز کاررائیوں میں ملوث تھے۔ انہیں ہلاک کرنے کا حکم ملا۔میں نے انھیں بغیر کسی تذبذب کے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی سکواڈ سمندر کے ذریعے تیونس کے دارالخلافہ پہنچا تھا۔ اس کے بعد وہ اور ایک دوسرا کمانڈو عورت بن کر ان کے گھر تک گئے۔ انھوں نے ایسے ظاہر کیا کہ وہ ایک جوڑی ہے جو ہوا خوری کے لیے نکلی ہے۔

ناہیوم لیو نے بتایا کہ انھوں نے پہلے چاکلیٹ کے بکس میں چھپائی گئی بندوق سے ایک محافظ کو سر میں گولی ماری۔

"میں نے ابو جہاد کے حوالے سے ساری معلومات حاصل کر لی تھیں۔ وہ کئی غیرفوجی لوگوں کے خلاف کئی خونریز کاررائیوں میں ملوث تھے۔ انہیں ہلاک کرنے کا حکم ملا۔میں نے انھیں بغیر کسی تذبذب کے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔"

ناہیوم لیو

اخبار کے مطابق اس کے بعد ماسک پہنے کمانڈو ابو جہاد کے گھر کے اندر داخل ہوئے۔ ایک کمانڈو سیڑھیوں پر چڑھا اور ان کے پیچھے ناہیوم لیو تھے۔

ناہیوم نے بتایا کہ انھوں نے پہلے ابوجہاد کو گولی ماری۔ انھوں نے بتایا ’ایسا لگ رہا تھا کہ ابوجہاد کے ہاتھ میں بندوق ہے۔ پھر میں نے ان پر احتیاط سے گولیوں کی بوچھاڑ کی تاکہ ان کی بیوی زخمی نہ ہو جو اس طرف آئی تھیں۔وہ موقع پر ہلاک ہوئےاور دوسرے کمانڈو نے ان کی ہلاکت کی تصدیق کی۔‘

اخبار کے مطابق اس کارروائی میں ایک اور محافظ اور مالی بھی ہلاک کیےگئے۔

اسرائیل کے فوجی حکام نے ابھی تک اخبار میں شائع ہونے والے اس مضمون پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

خیال رہے کہ فلسطینی رہنماء یاسر عرفات کی موت بھی متنازع رہی ہے۔ وہ دو ہزار چار میں پیرس میں ایک فوجی ہسپتال میں دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہوئے۔

تاہم ان کے خاندان نے دعویٰ کیا کہ انھیں زہر دے کر ہلا ک کیا گیا جس کے بعد فرانس میں حکام نے ان کے قتل کی تحقیقات شروع کی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔