’فلسطین، صرف غزہ کی پٹی اور مغربی کنارہ ہے‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 3 نومبر 2012 ,‭ 02:27 GMT 07:27 PST

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اس بات کی تائید کی ہے کہ ان کا ہدف سنہ انیس سو سڑسٹھ کی سرحدوں کے تحت مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔

حال ہی میں اسرائیل نے ان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ اسرائیلی علاقے میں اس کی خودمختاری کو چیلنج کر رہے ہیں۔

محمود عباس صفد نامی قصبے میں پیدا ہوئے تھے۔ ایک اسرائیلی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ اس قصبے کو اب اسرائیل کا حصہ مانتے ہیں اور وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ انھیں اب وہاں رہائش کا کوئی حق نہیں ہے۔

تاریخی طور پر فلسطینیوں نے پناہ گزینوں کی واپسی کے حق کا مطالبہ کیا ہے۔

سنہ انیس سو اڑتالیس میں اسرائیل کی جنگِ آزادی اور سنہ انیس سو سڑسٹھ میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے سبب لاکھوں فلسطینی بے گھر ہوگئے تھے۔

آج، ان میں کئی فلسطینی اور ان کے بچے مغربی کنارے، غزہ پٹی، اردن، شام اور لبنان میں رہتے ہیں۔ ان میں سے تقریباً پانچ لاکھ کا اقوامِ متحدہ کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے کی فہرستوں میں بطور پناہ گزین اندراج ہے۔

"’میرے لیے فلسطین انیس سو ستاسٹھ کی سرحدوں والا اور دارالحکومت کے طور پر مشرقی یروشلم ہے۔ یہ ہے فلسطین۔ میں ایک پناہ گزین ہوں۔ میں رملہ میں رہتا ہوں۔ مغربی کنارہ اور غزہ پٹی فلسطین ہے۔ باقی سب کچھ اسرائیل ہے"

صدر محمود عباس

اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو اب واپسی کی امید چھوڑ دینا چاہیے کیونکہ یہ علاقے اب اسرائیلی ہیں اور ان تمام افراد کو میزبان عرب ممالک یا مستقبل کی فلسطینی ریاست کے شہری بن جانا چاہیے۔ اسرائیل کے مطابق ان جنگوں میں عرب ممالک سے نکالے گئے یہودیوں کو بھی اسرائیل میں پناہ لینا پڑی تھی۔

اسرائیل کے چینل ٹو کو دیے گئے انٹرویو میں محمود عباس نے اسرائیلی حکومت کے ان الزامات کا جواب دیا کہ وہ مسئلے کا دو ریاستی حل نہیں چاہتے بلکہ مغربی کنارے، غزہ اور اسرائیلی علاقوں کو ملا کر فلسطینی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔

اس ماہ کے آغاز میں اسرائیلی ذرائع ابلاغ کا کہنا تھا کہ محمود عباس نے اپنے فیس بک صفحے پر لکھا تھا کہ ان کا اقوامِ متحدہ میں مبصر ملک کا درجہ حاصل کرنا یہ ثابت کر دے گا کہ ہمارے علاقے مقبوضہ ہے اور یہ بات جون انیس سو سڑسٹھ سے پہلے اسرائیل کے قبضے میں آنے والے تمام علاقوں پر لاگو ہوتی ہے۔

بعد میں فلسطینی حکام نے وضاحت کی تھی کہ عام طور پر مغربی کنارے اور غزہ پٹی کو ’انیس سو اڑتالیس کی فلسطینی ریاست‘ کہا جاتا ہے اور صدر عباس صرف ان علاقوں کی بات کر رہے تھے جو کہ انیس سو سڑسٹھ میں قبضے میں آئے۔

جمعرات کو دیے گئے انٹرویو میں صدر نے کہا کہ ’میں صفد سے آیا ہوا پناہ گزین ہوں مگر میں اس شہر میں بطور رہائشی واپسی کا ارادہ نہیں رکھتا۔ مگر میں صفد دیکھنا چاہتا ہوں۔ اسے دیکھنا میرا حق ہے مگر وہاں رہنا نہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’میرے لیے فلسطین انیس سو سڑسٹھ کی سرحدوں والا اور دارالحکومت کے طور پر مشرقی یروشلم ہے۔ یہ ہے فلسطین۔ میں ایک پناہ گزین ہوں۔ میں رملہ میں رہتا ہوں۔ مغربی کنارہ اور غزہ پٹی فلسطین ہیں۔ باقی سب کچھ اسرائیل ہے۔‘

ادھر غزہ پٹی میں بر سرِ اقتدار اسلامی تنظیم حماس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ صدر کا بیان صرف ان کا ذاتی خیال ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔