امریکہ: روزگار کے مواقع میں اضافہ

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 2 نومبر 2012 ,‭ 18:17 GMT 23:17 PST

امریکہ میں بے روزگاری کا مسئلہ انتخابات کا اہم ایشو ہے۔

امریکہ میں اکتوبر کے مہینے میں ایک لاکھ اکہتر ہزار نئی نوکریوں کا اضافہ ہوا ہے، جو توقعات سے بہت زیادہ ہے۔

تاہم امریکہ کے محکمۂ روزگار کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس کے باوجود بے روزگاری کی شرح بڑھ کر سات اعشاریہ نو فیصد ہوگئی ہے، جو ستمبر کے مہینے میں سات اعشاریہ آٹھ فیصد تھی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اکتوبر میں زیادہ لوگوں نے نوکری ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی۔

صرف انھی لوگوں کو بے روزگار سمجھا جاتا ہے جو سرگرمی سے نوکری ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

منگل کو ہونے والے انتخابات میں بے روزگاری اہم ایشو ہے۔

یہ انتخابات سے قبل جاری کیے جانے والے آخری اہم معاشی اعداد و شمار ہیں۔ ری پبلیکن پارٹی کی صدارتی امیدوار مٹ رومنی نے امریکہ میں روزگار کی صورتِ حال کو اپنی انتخابی مہم کا اہم حصہ بنایا ہے۔

انھوں نے کہا ’آج بے روزگاری میں اضافے کی شرح کے اعداد و شمار اس بات کی افسوس ناک یاد دہانی کرواتے ہیں کہ معیشت ساکت کھڑی ہے۔‘

’آج بے روزگاری کی شرح اس وقت کے مقابلے میں زیادہ ہے جب صدر اوباما نے اقتدار سنبھالا تھا، اور اب بھی دو کروڑ تیس لاکھ لوگ ایسے ہیں جنھیں روزگار کے سلسلے میں مشکل کا سامنا ہے۔‘

گذشتہ دو ماہ میں روزگار کے نئے مواقع کی جو تعداد بتائی گئی تھی اس ترمیم کر کے اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ستمبر میں چونتیس ہزار نئی نوکریاں اور اگست میں پچاس ہزار مزید نئی نوکریاں پیدا کی گئیں۔

نئی نوکریوں کی تعداد میں اضافے کے باوجود براک اوباما ایک ایسی صورتِ حال میں انتخابات لڑیں گے جب امریکہ میں بے روزگاری کی شرح فرینکلن روزویلٹ کو چھوڑ کر کسی بھی صدر کے مقابلے پر زیادہ ہے۔

"آج بے روزگاری کی شرح اس وقت کے مقابلے میں زیادہ ہے جب صدر اوباما نے اقتدار سنبھالا تھا، اور اب بھی دو کروڑ تیس لاکھ لوگ ایسے ہیں جنھیں روزگار کے سلسلے میں مشکل کا سامنا ہے۔"

مٹ رومنی

بے روزگاری کی شرح میں معمولی اضافہ ان لوگوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے ہوا جو نوکری تلاش کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس سے قبل ہمت ہار کر نوکری ڈھونڈنے کی کوشش ترک کر دی تھی۔ اب ان لوگوں کا خیال ہے کہ انھیں نوکری ملنے کا بہتر موقع ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اضافے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کا معیشت پر اعتماد بڑھا ہے۔

اکتوبر میں کل ورک فورس میں اضافہ ہو کر پانچ لاکھ اٹھہتر لاکھ ہو گیا۔ ورک فورس وہ لوگ ہیں جو یا تو کام کر رہے ہیں یا کام ڈھونڈ رہے ہیں۔

لیبر ڈیپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ سمندری طوفان سینڈی کا بے روزگاری کی شرح پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔

ایسے لوگوں کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آئی جو کل وقتی نوکری کرنا چاہتے ہیں لیکن مجبوراً جزوقتی کام کر رہے ہیں۔ یہ تعداد دو لاکھ انہتر ہزار کم ہو کر تراسی لاکھ رہ گئی۔

چارلز شواب کی کیتھی جونز کہتی ہیں کہ یہ اعداد و شمار اچھے ہیں، لیکن انھوں نے خبردار کیا کہ ”ہم اب بھی وہاں نہیں پہنچے جہاں ہمیں ہونا چاہیے تھا۔ ہمیں بے روزگاری کی شرح کو نیچے لانا ہے، یعنی چھ فیصد کے قریب، نہ کہ آٹھ فیصد کے قریب۔‘

انھوں نے مزید کہا ’البتہ سمت میں بہتری آئی ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔