صدر اوباما کے سکیورٹی ایجنٹ کی خودکشی

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 2 نومبر 2012 ,‭ 14:53 GMT 19:53 PST

واشنگٹن کی میٹرو پولیٹن پولیس ان کی موت کی تحقیقات کر رہی ہے

امریکہ میں قانون نافذ ادارے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی صدر براک اوباما کی سکیورٹی پر تعینات سیکریٹ سروس کے ایک ایجنٹ نے مبینہ طور پر خود کشی کر لی ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اہکاروں نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ وہ سیکریٹ سروس کے ایجنٹ رافیل پریٹو کی خودکشی سے متعلق رپورٹ کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ ان کی غیر ملکی شہری سے محبت کیوں ناکام ہوئی؟ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ساتھی کی وفات پر افسردہ ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی سیکریٹ سروس کے ایجنٹوں کے رواں سال کے اوائل میں کولمبیا میں جسم فروشی کا سکینڈ سامنے آنے کے بعد زیرِ تفتیش ہیں۔

خفیہ سروس کے ایجنٹوں کو اس بات کا پابند کیا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی غیر ملکی شخص کے ساتھ تعلق قائم کرنے سے پہلے سیکریٹ سروس کو اس بارے میں آگاہ کریں تاکہ ملک کی سکیورٹی پر کوئی آنچ نہ آئے۔

امریکی ذرائع نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ امریکی سیکریٹ سروس کے ایجنٹ رافیل پیرٹو شادی شدہ تھے تاہم انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ان کے میکسیکو سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سے تعلقات تھے۔

خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق ایجنٹ رافیل کے خاتون کے ساتھ تعلقات کا انکشاف ایک دوسرے سیکریٹ ایجنٹ نے کیا جنہیں اس بات کا خدشہ تھا کہ سیکریٹ سروس اپنے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کروانے میں ناکام رہی ہے۔

امریکی سیکریٹ سروس کے ایجنٹ کی لاش سنیچر کو ان کی گاڑی سے برآمد ہوئی۔

واشنگٹن کی میٹرو پولیٹن پولیس ان کی موت کی تحقیقات کر رہی ہے۔

امریکی سیکریٹ سروس کے ترجمان ایڈون نے ایک بیان میں بتایا کہ رافیل کا کیرئیر بیس برس پر محیط تھا اور وہ ایک محنتی افسر تھے۔

انہوں نے کہا کہ سیکریٹ سروس اپنے ساتھی کی موت پر افسردہ ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔