شام: باغیوں کا اہم ہوائی اڈے پر حملہ

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 3 نومبر 2012 ,‭ 09:59 GMT 14:59 PST

باغیوں نے فوجی ایئر پورٹ پر قبضہ کے لیے بڑا حملہ کیا ہے

شام میں حکومت مخالف باغیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ملک کے شمال میں واقع ایک اہم فوجی ہوائي اڈے پر قبضہ کرنے کے لیے ایک بڑا حملہ کیا ہے۔

یہ حملہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں شام کے اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان ہونے والے اہم اجلاس سے ایک روز پہلے ہی کیاگيا ہے۔

انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں باغیوں کو تافتناز فوجی اڈے پر حملہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس میں وہ دمشق اور حلب کے درمیان فوجی اعتبار سے ایک اہم علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ویڈیو فوٹیج سے پتہ چلتا ہے کہ باغیوں کی پانچ مختلف ٹکڑیوں نے سنیچر کی علی الصباح ایک ساتھ ملکر کر تافتناز کے اس اہم فضائی مرکز پر راکٹوں اور مورٹر جیسے بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔

پڑوسی ملک لبنان میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ باغیوں کی جانب سے یہ ایک بڑا آپریشن ہے اور یہ ایئر پورٹ کو صرف نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ قبضہ کرنے کی غرض سے کیا گيا ہے۔

حالیہ مہینوں میں شام کی فوج نے باغیوں پر اپنے فضائی حملے تیز کیے ہیں اور ان جگہوں کونشانہ بنایا ہے جہاں باغیوں کا کنٹرول ہے لیکن باغیوں کے پاس طیارہ شکن ہتھیار نہیں ہیں۔

اطلاعات کے مطابق باغیوں نے حلب شہر کی جنوب مغربی شاہراہ کے بیشتر علاقے پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

مذکورہ ویڈیو میں کہا گيا ہے کہ اس حملے میں فری سیرین آرمی سے تعلق رکھنے والے کئی بریگیڈ شامل ہیں اور سخت گیر اسلامی گروپ النصر فرنٹ بھی ان کے ساتھ ہے۔

گذشتہ روز اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے باغیوں کی جانب سے سرکاری فوجیوں کو قتل کرنے کے واقعے کی مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ یہ عمل جنگی جرم کے مترادف ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق ابھی تک اس بات کی تصدیق تو نہیں ہو سکی ہے لیکن سخت گیر اسلامی گروپ ’النصر فرنٹ‘ پر اس کارروائی کی ذمے داری عائد کی جا رہی ہے۔

باغیوں نے مبینہ طور پر ایک درجن فوجیوں کو پکڑنے کے بعد قتل کر دیا

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کے ترجمان ناوی پلے نے اس پر اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ’اس کا بہت امکان ہے کہ یہ بظاہر جنگی جرم ہے۔‘

اطلاعات کے مطابق دمشق اور حلب کے درمیان ایک فوجی چیک پوسٹ پر قبضہ کرنے کے بعد باغیوں نے پکڑے گئے فوجیوں کو مبینہ طور پرگولی مار دی تھی۔

اس سے متعلق ایک ویڈیو میں بظاہر دیکھا جا سکتا ہے کہ قبضہ کی گئی ایک چیک پوسٹ کے اندر باغی تقریباً ایک درجن فوجیوں کو زمین پر لاتوں سے مار مار کر دھکیل رہے ہیں۔ اس کے فورا بعد ان خوفزدہ افراد پر اندھا دھند فائرنگ کی جاتی ہے۔

ایمنسٹی نے اس سے متعلق ایک بیان میں کہا ’یہ درد ناک فوٹیج جنگی جرائم کے ارتکاب کا منظر پیش کرتی ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسلح گروپ کس سختی سے عالمی انسانی حقوق کی پامالیاں کر رہے ہیں۔‘

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے بھی اس پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر تشویش ظاہر کی تھی کہ شام کے انقلاب کو سخت گیر اسلامی گرپ ہائی جیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

قطر میں اس اختتامِ ہفتہ اپوزیشن رہنماؤں کے اہم اجلاس سے قبل باغی گرپوں کی جانب سے اس طرح کی ظالمانہ کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان کئی امور پر اختلافات بھی ہیں اور امریکہ کو امید ہے کہ نئی قیادت سے مضطرب اپوزیشن عناصر متحد ہوسکتی ہے اور یہ تنازع حل بھی ہو سکتا ہے جس میں اب تک تقریبا چھتیس ہزار زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اختلافات صرف شام کے سیکولر اور اسلامک اپوزیشن رہنماؤں میں ہی نہیں بلکہ ان کے درمیان بھی ہیں جو شام میں رہتے ہیں اور جو بیرونِ ملک مقیم ہیں۔

ادھر عرب لیگ نے اعلان کیا ہے کہ شام کے مسئلے پر روس کے وزیر خارجہ، بین الاقوامی امن ایلچی اخضر ابراہیمی اور عرب لیگ کے جنرل سیکرٹری نبیل العربی سنیچر کو قاہرہ میں ملاقات کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔