امریکہ: ساری توجہ فیصلہ کن ریاستوں پر مرکوز

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 3 نومبر 2012 ,‭ 05:13 GMT 10:13 PST

صدر اوباما امریکی ریاست اوہائیو میں ایک جلسے سے خطاب کر رہے ہیں، جسے اس مقابلے میں ایک فیصلہ کن ریاست قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انتخابات میں انتخابی مہم اپنے آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہے اور دونوں صدارتی امیدوار صدر براک اوباما اور مٹ رومنی نےاپنی انتخابی مہم ان ریاستوں میں شروع کر دی ہے جو جیت میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔ یہ ریاستیں اوہائیو، وسکونسن، کولوراڈو اور ورجینیا ہیں۔

اس آخری مرحلے میں رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق دونوں امیداروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہو گا جبکہ انتخاب میں فیصلہ کن ریاستوں میں صدر اوباما کو معمولی سی برتری حاصل ہے۔

ڈیموکریٹ امیدوار صدر اوباما نے ریاست اوہائیو میں تین مقامات پر انتخابی جلسوں سے خطاب کیا۔

صدر اوباما نے اوہائیو میں تقریر کرتے ہوئے کہا ’ہمیں معلوم ہے کہ تبدیلی کیسے دکھائی دیتی ہے اور جو گورنر رومنی دکھا رہے ہیں اس میں وہ نہیں ہے‘۔

یاد رہے کہ اوہائیو ان چند ریاستوں میں سے ایک ہے جو صدر اوباما کی دوسری مدت کے لیے انتخاب میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔

صدر اوباما انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں مصروفیات سے بھرپور وقت گزار رہے ہیں اور سنیچر کو اوہائیو کے علاوہ تین دیگر ریاستوں آئیوا، وسکونسن اور ورجینیا کا دورہ کر رہے ہیں۔ ان ریاستوں میں دونوں صدارتی امیدواروں میں کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے۔

مٹ رومنی بھی اوہائیو کا اتوار کو دورہ کریں گے۔

صدر اوباما کے حریف صدارتی امیدوار مٹ رومنی آئیوا، نیو ہمشائر اور کولوراڈو میں انتخابی مہم کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

جمعہ کو امریکہ کے محکمۂ روزگار کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر کے مہینے میں ایک لاکھ اکہتر ہزار نئی نوکریوں کا اضافہ ہوا ہے، جو توقعات سے بہت زیادہ ہے۔

اس کے باوجود بے روزگاری کی شرح بڑھ کر سات اعشاریہ نو فیصد ہوگئی ہے، جو ستمبر کے مہینے میں سات اعشاریہ آٹھ فیصد تھی جس کی وجہ یہ ہے کہ اکتوبر میں زیادہ لوگوں نے نوکری ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی۔

دونوں امیدواروں نے اپنی انتخابی تقریروں میں اس انتحاب کو امریکہ کے دو مختلف طرز ہائے زندگی کے درمیان فیصلہ قرار دیا۔

روزگار سے متعلق اعداد و شمار کے اجرا پر بات کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا ہے کہ’ہم نے حقیقی ترقی کی ہے لیکن ہمیں ابھی بہت سا کام کرنا ہے‘۔

مٹ رومنی نے اپنی تقریر میں کہا ’یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ معیشت جمود کا شکار ہے۔ اوباما نے تبدیلی کا وعدہ کیا جو پورا نہیں ہوا اور میں تبدیلی کا وعدہ کرتا ہوں اور میرا ماضی گواہ ہے کہ میں یہ حاصل کر سکتا ہوں۔‘

صدر اوباما کی طرح نائب صدر جو بائیڈن نے بھی اپنا دن انتخابی مہم کے لیے وسکونسن میں گزارا جبکہ ری پبلکن نائب صدارت کے امیدوار پال رائن نے کولوراڈو اور آئیووا میں وقت گزارنے کے بعد مٹ رومنی کے ساتھ اوہائیو میں جلسے میں شرکت کی۔

صدر اوباما نے اپنے حامیوں کو انتخابی دن سے پہلے جا کر ووٹ ڈالنے کی تلقین کی ہے

خاتون اول مشل اوباما نے بھی ورجینیا میں اپنے شوہر کی جانب سے مختلف انتخابی تقریبات میں شرکت کی۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان گنی چنی ریاستوں کے نتائج ہی اس انتخاب کا فیصلہ کریں گے۔

اس سلسلے میں اوہائیو کو بہت اہمیت قرار دی جا رہی ہے جس کے بیس الیکٹرل ووٹ ہیں۔

لاطینی ووٹروں کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستر فیصد لاطینی ووٹر صدر اوباما کے حامی ہیں جو کہ رومنی سے بیس فیصد زیادہ ہے۔

صدر اوباما نے اپنے ووٹروں کو انتخابی مراکز میں جلدی جانے کا کہا ہے جب کہ وہ خود اپنا ووٹ شکاگو میں پچھلے ہفتے ڈال چکے ہیں۔

اندازہ لگایا گیا ہے کہ دو کروڑ چالیس لاکھ افراد نے اپنے ووٹ کا حق پہلے ہی استعمال کر لیا ہوا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔