’ایک لاکھ سے زائد روہنگیا امداد کے منتظر‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 4 نومبر 2012 ,‭ 13:44 GMT 18:44 PST

برما کے مغربی علاقوں میں کام کرنے والے امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ بےگھر ہونے والے ایک لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمانوں کے لیے مزید امداد کی ضرورت ہے۔

برما کی ریاست رخائن میں رہنے والے بودھ اور روہنگیا مسلمانوں کے درمیان ہونے والے فسادات کے نیتجے میں ان افراد میں سے بیشتر کی بستیاں جلا دی گئیں جس کی وجہ سے وہ نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

اقوام متحدہ کے تحت کام کرنے والے مختلف اداروں نے ان مہاجرین میں امداد تقسیم کرنے کا کام شروع تو کیا ہے مگر ان کا کہنا ہے کہ ان مہاجر بستیوں میں سہولیات بہت محدود ہیں۔

رخائن ریاست کے صدر مقام ستوی میں موجود بی بی سی کے جنوب مشرقی ایشیا کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ نے بتایا کہ ان امدادی اداروں کا کہنا ہے محدود سہولیات خاص طور پر ان مہاجر خاندانوں کے لیے مشکل کا باعث ہیں جنہوں نے اگلے کئی ماہ تک انہیں کیمپوں میں رہنا ہے۔

فسادات کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد اس وقت ایک لاکھ دس ہزار کے قریب ہے جس سے نمٹنے کے لیے مقامی حکومت کے پاس کافی وسائل نہیں ہیں۔

نقل مکانی کرنے والوں میں اکثریت روہنگیا مسلمانوں کی ہے۔

روہنگیا مسلمان بودھوں کی جانب سے سماجی قطع تعلقی کا بھی شکار ہیں جس کی وجہ سے ان کے لیے بازاروں سے اشیا خریدنا ناممکن ہے۔

ایک لاکھ دس ہزار کے قریب افراد ان فسادات کی وجہ سے بے گھر ہو کر امدادی کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جن میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔

یہ مسلمان اپنے اوپر ہونے والے حملوں خطرے کے پیش نظر ماہی گیری بھی نہیں کر سکتے جو کہ ان میں سے اکثریت کا بنیادی پیشہ ہے۔

ان دونوں گروہوں کے درمیان عدم اعتماد کی شدید فضا کو دیکھتے ہوئے اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ بے گھر ہونے والے ان افراد میں سے اکثر اپنے گھروں کو واپس جا سکیں۔

اسی بنیاد پر امدادی کارکنوں کا کہنا ہے یہاں طویل مدت کے لیے امداد کی ضروریات ہیں۔

دوسری جانب برما میں حزب اختلاف کی رہنما آنگ سان سُوچی نے ملک کے مغربی علاقوں میں نسلی فسادات کے دوران ہزاروں کی تعداد میں بے گھر ہونے والے روہنگیا مسلمانوں کی حمایت کرنے سے انکار کرتے ہوئے پر تشدت فسادات کے حوالے سے صبر و برداشت کی اپیل کی ہے۔

بی بی سی سے بات کر تے ہوئے آنگ سان سُوچی نے کہا کہ فسادات کے مسئلے کی بنیاد کو دیکھے بغیر وہ روہنگیا مسلمانوں کی حق میں بول کر اپنی اخلاقی قیادت کا غلط استعمال نہیں کریں گی۔

یاد رہے کہ ملک کے مشرقی علاقے رخائن میں حالیہ فسادات کے دوران ساٹھ سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

ایک اندازے کے مطابق برما میں تقریباً آٹھ لاکھ روہنگیا مسلمان ہیں جنہیں حکومت شہریت دینے سے انکار کرتی ہے۔

برما میں بودھ مت مذہب سے تعلق رکھنے والے روہنگیا مسلمانوں کو بنگلہ دیش سے آئے ہوئے غیر قانونی مہاجرین سمجھتے ہیں اور ان کو برما سے نکالنا چاہتے ہیں۔

"میں صبر کی اپیل کرتی ہوں لیکن میرے خیال میں کسی رہنما کو مسائل کی بنیاد دیکھے بغیر کسی خاص مقصد کے لیے کھڑے نہیں ہونا چاہیے۔"

برما کی حزب اختلاف کی رہنما آنگ سان سوچی

آنگ سان سُوچی نے کہا کہ طرفین کا نقصان ہوا اور یہ ان کا کام نہیں کہ کسی گروہ کی حمایت کریں یا ان کے مسائل کو اجاگر کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں صبر کی اپیل کرتی ہوں لیکن میرے خیال میں کسی رہنما کو مسائل کی بنیاد دیکھے بغیر کسی خاص مقصد کے لیے کھڑے نہیں ہونا چاہیے۔‘

انھوں یہ بات جاننے سے بھی انکار کیا کہ آٹھ لاکھ روہنگیا مسلمانوں کو برمی شہریت نہیں دی جا رہی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ انیس سو بیاسی میں بنائے گئے اس متنازع قانون کو دیکھنے کی ضرورت ہے جس کے رو سے برما کے روہنگیا مسلمانوں کو شہری حقوق کے دائرے سے باہر رکھا گیا۔

بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کے مطابق روہنگیا مسلمانوں کے حق میں نہ بولنے پر آنگ سان سُوچی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کے اس رویے سے انسانی حقوق کی تنظیموں کو مایوسی ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ نے برما کے روہنگیا کو دنیا کے سب سے زیادہ تکلیف میں رہنے والی اقلیتیوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔