ووٹرز کو پولنگ مراکز تک لانا اہم ہوگا

آخری وقت اشاعت:  اتوار 4 نومبر 2012 ,‭ 12:53 GMT 17:53 PST
مٹ رومنی اور براک اوباما

مٹ رومنی اور براک اوباما آخری مرحلے میں ووٹروں کو گھروں سے باہر آکر ووٹ دینے کی ترغیب دے رہے ہیں۔

امریکہ میں منگل کو صدارتی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں اور مہم کے آخری دنوں میں انتخابی مہم ان لوگوں پر مرکوز ہوگئی ہے جنہوں نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ وہ کسے ووٹ دیں گے۔

اب دونوں امیدوار یعنی صدر براک اوباما اور رپبلکن پارٹی کے مٹ رومني انتخابی مہم کے آخری دور میں ان ریاستوں میں جلسے کر رہے ہیں جہاں لوگوں کا رجحان ابھی واضح نہیں ہے۔

مقابلہ کانٹے کا ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ فیصلہ اس بات پر ہوگا کہ کون سا امیدوار انتخاب کے دن کتنے حامیوں کو ووٹ ڈالنے کے لیے انتخابی مراکز تک لے جانے میں کامیاب ہوتا ہے۔

اس بات میں کافی سچائی ہے۔ مٹ رومني کے حامی اور ورجینیا ریاست میں رپبلکن پارٹی کے ایک رہنما پونيت اہلواليہ نے کہا ’ہمارے کارکن اب باہر نکل کر اپنے حامیوں کے گھروں پر دستک دے رہے ہیں۔ ہم انہیں انتخابی پرچہ ہاتھ میں دے رہے ہیں اور مٹ رومني کے نام کے آگے ایک ’یس‘ کا نشان لگا کر ان سے کہہ رہے ہیں کہ آپ اسی نام کے آگے ووٹ دیں‘۔

براک اوباما کو دس لاکھ ڈالر انتخابی چندہ دینے والے بھارتی نژاد فرینک اسلام کہتے ہیں کہ ان کے لیڈر نے سینڈي طوفان کے بعد انتخابی مہم دوبارہ شروع کرنے کے بعد ان سے کہا کہ وہ گھرگھر جا کر دستک دیں۔

سینڈی سے اوباما کو برتری نہیں۔۔۔

"مجھے نہیں لگتا سینڈي کا اوباما کو کوئی خاص فائدہ ہونے والا ہے۔ طوفان سے متاثرہ ریاستوں میں لوگوں نے پہلے ہی یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ ووٹ کس کو دیں گے۔ اب وہ دل بدلنے والے نہیں۔ دوسری بات یہ کہ رومني کی حمایت اندر ہی اندر گورے لوگوں میں اور مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ زیریں لہر رومني کی حمایت میں ہے"

ریپبلیکن کے حامی فضیل علی

اوباما کیمپ کے ایک اور رہنما نے کہا ’پہلے انہوں نے ہم جیسے انتخابی چندہ دینے والوں کا شکریہ ادا کیا اور پھر اپیل کی کہ ہم لوگ گھرگھر جا کر لوگوں کو انتخابات کے دن یا اس سے پہلے ووٹ ڈالنے کے لیے کہیں‘۔

سینڈي طوفان کے بعد امریکی صدر کی ساکھ بہتر ہوئی ہے۔ سابق وزیر خارجہ كولن پاول نے بھی اوباما کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

تباہی سے متاثر نیو جرسی ریاست کے گورنر اور رپبلکن رہنما کرس كرسٹي نے براک اوباما کی کافی تعریف کی، جب کہ وہ اوباما کے ناقدین میں سے ایک ہیں۔

رپبلکن پارٹی کے حامیوں نے بھی سینڈي طوفان سے نمٹنے پر اوباما کی تعریف کی ہے اور اس سے یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ مٹ رومني کی کشتی ڈگمگانے لگی ہے۔

پارٹی کے ایک رہنما نے کہا کہ سینڈي سے پہلے مٹ رومني کی مقبولیت بڑھ رہی تھی۔’انہیں عوام کی حمایت حاصل تھی لیکن سینڈي کے بعد اوباما ایک مضبوط لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں‘۔

لیکن پارٹی کے تمام افراد اس دلیل کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ پارٹی کے ایک کارکن فضیل علی نے کہا ’مجھے نہیں لگتا سینڈي کا اوباما کو کوئی خاص فائدہ ہونے والا ہے۔ طوفان سے متاثرہ ریاستوں میں لوگوں نے پہلے ہی یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ ووٹ کس کو دیں گے۔ اب وہ فیصلہ بدلنے والے نہیں۔ دوسری بات یہ کہ رومني کی حمایت اندر ہی اندر سفید فام لوگوں میں مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ زیریں لہر رومني کی حمایت میں ہے‘۔

سینڈی کے اثرات

سینڈی سے مقابلہ کرنے پر اوباما کی تعریف ہوئی ہے لیکن کیا یہ ووٹ میں تبدیل ہو سکے گی۔

خود مٹ رومني کے ایک مشیر کا کہنا ہے کہ ’سات نومبر کی صبح جب سورج نکلے گا تو ملک کا نیا صدر منتخب کیا جا چکا ہوگا۔ امریکہ کے پینتالیسویں صدر مٹ رومني ہوں گے۔ ہم تمام سروے میں آگے ہیں اور مسلسل اپنی برتری قائم رکھے ہوئے ہیں۔ جیت ہماری ہوگی‘۔

امریکہ میں الیکشن کے بارے میں منصفانہ رائے رکھنے والے کم ہی ملتے ہیں اور جو ہیں ان کے مطابق مقابلہ کانٹے کا ضرور ہے لیکن اوباما کو ہرانا آسان نہیں ہوگا۔

ویسے بھی ملک کی انتخابی تاریخ میں ایسا کم ہی ہوا ہے کہ کوئی صدر انتخابات میں ہار جائے۔ دوسری طرف وہ کہتے ہیں کہ اوباما کی حمایت کرنے والے لوگ اب بھی وہی ہیں جو چار سال پہلے تھے، یعنی سیام فام، لاطینی نژاد، ایشیائی اور خواتین۔

البتہ وہ اتنا ضرور کہتے ہیں کہ یہ تمام گروپ اب اوباما سے زیادہ خوش نہیں ہیں اس لیے ان کے اندر چار سال پہلے والا جوش نہیں ہے۔ اس لیے ان انتخابات کے دن پولنگ مراکز پر جا کر ووٹ دینا براک اوباما کے دوبارہ منتخب ہونے کے لیے ضروری ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔