’نتیجہ خیز بات چیت کے لیے پرامید ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  پير 5 نومبر 2012 ,‭ 05:23 GMT 10:23 PST

شام میں لڑنے والے باغیوں نے شامی نیشنل کونسل پر تنقید کی ہے

شام میں اہم حکومت مخالف گروہ شامی نیشنل کونسل کے ایک ترجمان نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے مخالفین کو متحد کرنے کے لیے منعقدہ اجلاس میں سخت اختلافِ رائے سامنے آیا ہے۔

قطر میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اسامہ مونجد کا کہنا تھا کہ یہ بات چیت نتیجہ خیز ثابت ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم پرامید ہیں کہ یہ مذاکرات بارآور ثابت ہوں گے اور ہم نہ صرف شامی نیشنل کونسل کی نئی قیادت، نیا صدر، نئی ایگزیکٹو کمیٹی منتخب کرنے میں کامیاب رہیں گے بلکہ حزبِ مخالف کے دیگر گروہوں سے جلاوطنی میں حکومت یا ایسی عبوری حکومت کے قیام پر بات چیت کریں گے جو خصوصاً شمالی اور شمال مغربی شام میں ان علاقوں کا انتظام سنبھالے جنہیں اسد حکومت کے قبضے سے چھڑوا لیا گیا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ قطر میں ہونے والی بات چیت سے شامی قومی کونسل کی اہمیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہو رہی۔ شامی قومی کونسل بيرون ملک مقيم شامی شہریوں کا ايک گروپ ہے اور اس پر تنقید کی جاتی ہے کہ اس کے بیشتر ارکان دانشور یا جلا وطن شخصیات ہیں۔

ادھر شام کے با اثر منحرف رہنماء رياض سيف نے کہا ہے کہ پچاس گروہوں پر مشتمل ايک گروپ بنا رہے ہیں جسے عالمي طاقتوں کي حمايت حاصل ہے۔

قطر میں ہونے والے اجلاس ایک نئی کونسل بنانے کی کوشش کی جائے گی

اس سے قبل قطر میں شام کي اپوزيشن جماعتوں کو يکجا کرنے کی کوششوں کو اس وقت شديد دھچکا لگا جب شام کے سب سے بڑے اپوزيشن گروپ، شامی نيشنل کونسل نے شام کے معاملات ميں ’بيرونی مداخلت‘ پر تنقيد کرتے ہوئے خبردار کيا تھا کہ اگر اسے نظر انداز کرنے کي کوشش کی گئی تو اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔

شام میں لڑنے والے باغیوں نے شامی نیشنل کونسل پر تنقید کی ہے کہ یہ تنظیم زمینی حقائق سے لاتعلق ہے اور نظریاتی طور پر بھی شامی حزب مخالف میں تفرقہ پایا جاتا ہے۔

امريکہ اور اس کے اتحادي ممالک کي ايما پر قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کا مقصد شام کي بکھري ہوئي اپوزيشن جماعتوں کو يکجا کرنا ہے۔

صدر بشار الاسد کے مخالفین دوحہ میں یہ فیصلہ کرنے کے لیے جمع ہیں کہ شامی حکومت کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک مضبوط اور متحدہ محاذ کیسے تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شامی نیشنل کونسل چار دنوں میں بات چیت کر کے اپنے تنظیمی ڈھانچے کو ازسرنو مرتب کرے گی۔

اس میں کوشش کی جائے گی کہ مزید نوجوانوں کو سامنے لایا جائے جو زمینی حقائق سے بہتر طور پر واقف ہیں۔اسی طرح ایک نئی متحدہ قیادت کو بھی سامنے لانے کی کوشش کی جائے گی جو تنظیم کو آگے لے جا سکے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔