جنوبی کوریا کے دو جوہری ری ایکٹر بند

آخری وقت اشاعت:  پير 5 نومبر 2012 ,‭ 12:20 GMT 17:20 PST
مسٹر ہانگ

مسٹر ہانگ نے کہا کہ اس کے بند ہونے سے بجلی کی فراہمی میں کمی آئے گی۔

جنوبی کوریا میں حکام نے کہا ہے کہ دو جوہری ری ایکٹروں کو اس انکشاف کے بعد بند کر دیا گیا ہے کہ ان کے بعض آلات کو ٹھیک طرح سے پرکھا نہیں گیا تھا۔

معیشت کے وزیر ہونگ سوک وو نے کہا کہ یہ پرزے یا آلات ری ایکٹروں کے لازمی اور کلیدی جز نہیں تھے اس لیے اس کی وجہ سے حفاظتی اعتبار سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔

ان پرزوں میں فیوز، ٹھنڈا کرنے والے پنکھے اور سوئچز شامل تھے جنہیں عام طور پر جوہری شعبے میں درکار حفاظتی سند کی ضرورت نہیں ہوتی۔

مسٹر ہانگ نے کہا کہ ری ایکٹروں کے بند ہونے کا مطلب ہے کہ آنے والے چند مہینوں کے دوران بجلی میں کٹوتی ہوگی جوکہ پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ اس میں استعمال ہونے والے پانچ ہزار سے زیادہ پرزے دوسری صنعتوں میں استعمال ہو جائیں گے کیونکہ جوہری پاور پلانٹوں میں استعمال ہونے کے لیے عالمی سرٹیفیکیٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔

"ان دو ری ایکٹروں میں جامع حفاظتی جانچ کی ضرورت ہے بطور خاص ان حصوں میں جہاں غیر سند یافتہ پرزوں کا استعمال ہو رہا تھا"

مسٹر ہانگ

وزیر معاشیات نے کہا ’ان دو ری ایکٹروں میں کی تفصیلی حفاظتی جائزے کی ضرورت ہے بطور خاص ان حصوں میں جہاں غیر تصدیق شدہ پرزوں کا استعمال ہو رہا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ پرزے سات لاکھ پچاس ہزار امریکی ڈالر کے ہیں اور دو ہزار تین سے آٹھ کمپنیوں کے ذریعے سپلائی کیے جا رہے ہیں۔

گزشتہ کچھ مہینوں میں جنوبی کوریا کے جوہری ری ایکٹروں میں لگاتار کچھ خرابیاں اور بے ضابطگیاں دیکھی گئی ہیں۔ جنوبی کوریا میں تئیس نیوکلیئر ری ایکٹرز ہیں جن سے ملک کی پینتیس فی صد بجلی کی فراہمی ہوتی ہے۔

بہرحال ان میں سے کسی بھی ری ایکٹر سے عوام کو کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔

سیئول سے ہمارے نامہ نگار لوسی ولیمسن نے بتایا ہے کہ ملک میں حکومت کی جوہری صنعت کی توسیع کی پالیسی کی بڑے پیمانے پر مخالفت پائی جاتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔